حوثی حملوں کے بڑھتے ہوئے پس منظر میں تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی عزم کو عملی شکل دینے، اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور مقدس مقامات کے خلاف حملوں کی مذمت پر اتفاق کیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ الائنس فار ڈیفنس کے تحت اپنی اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عملدرآمد اور مملکت سعودی عرب میں متفقہ فوجی قوتوں اور صلاحیتوں کی تیز تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ پیر کو ریاض میں الائنس کی تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔
دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے منظور شدہ انتظامات اور اپنی قومی قانون سازی کے مطابق یہ اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جن کا مقصد فوجی تیاری، انضمام اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی۔ ترکیہ کے وفد میں وزیر خارجہ حاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گیولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائرکتار اوغلو شامل تھے۔
<h2>مقدس مقامات کے خلاف حملوں کی مذمت</h2>
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس کا مقصد سعودی عرب کے خلاف سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔ تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور مملکت کے شہروں اور شہری و معاشی تنصیبات پر جاری حملوں کی شدید مذمت کی۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ کمیٹی نے حملوں اور ان کے ذمہ داروں کے خلاف اجتماعی روک تھام کے اقدامات کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
<h2>اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی مضبوطی</h2>
اجلاس میں اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اجلاس نے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود (ریٹائرڈ) کی مکہ الائنس فار ڈیفنس کے پہلے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے نامزدگی کی توثیق کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق کمیٹی نے کہا کہ مکہ الائنس فار ڈیفنس اجتماعی دفاع کے پختہ عزم اور خطرات کے مقابلے میں متحد موقف کی نمائندگی کرتا ہے، اور تینوں ممالک میں سے کسی ایک کی سلامتی کو اجتماعی سلامتی کا جزو قرار دیا۔
یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ اگست میں دستخط ہوا تھا اور اس میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک فریق پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ اجلاس حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پس منظر میں ہوا۔