اسٹاک ہوم میں رائل سویڈش اکیڈمی نے امریکی پروفیسرز رابرٹ ہال اور مائیکل وڈفورڈ کو معیشتوں کو بیرونی دھچکوں سے محفوظ رکھنے والے ماڈلز پر برسوں کے کام کے لیے معاشیات کا نوبیل انعام دیا ہے، جو آج دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی پالیسی سازی کی بنیاد بنے ہوئے ہیں۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے پیر بارہ اکتوبر کو اسٹاک ہوم میں اعلان کیا کہ 2026 کا نوبیل انعامِ معاشیات امریکی پروفیسرز رابرٹ ای. ہال اور مائیکل وڈفورڈ کے نام رہا۔ اکیڈمی کے مطابق دونوں ماہرین کو یہ اعزاز میکرو اکنامک استحکام کی مائیکرو اکنامک بنیادوں پر قائم ایسے ماڈلز کے لیے دیا گیا ہے جو معیشتوں کو بیرونی دھچکوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ رواں برس کا آخری نوبیل انعام تھا۔
انعام کی مالیت ایک کروڑ بیس لاکھ سویڈش کراؤن، یعنی تقریباً بارہ لاکھ امریکی ڈالر ہے، جو دونوں فاتحوں میں برابر تقسیم ہوگی۔ اس انعام کا باضابطہ نام سیورجز ریکس بینک پرائز اِن اکنامک سائنسز اِن میموری آف الفریڈ نوبیل ہے۔ یہ الفریڈ نوبیل کی وصیت میں شامل اصل پانچ انعامات میں سے نہیں، بلکہ سویڈن کے مرکزی بینک کی طرف سے قائم کیا گیا تھا اور پہلی بار 1969 میں دیا گیا تھا۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
ہال اور وڈفورڈ کی تحقیق کا بنیادی خیال یہ تھا کہ معیشت کو ان کروڑوں چھوٹے فیصلوں سے سمجھا جائے جو روزمرہ گھرانے اور کاروبار کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف مہنگائی یا پیداوار جیسے مجموعی متغیرات پر انحصار کیا جائے۔ ان کے ماڈلز کے مطابق گھرانے اور کاروبار بچت یا قیمتوں کے فیصلے کرتے وقت مستقبل کو سامنے رکھتے ہیں، اور حکومتیں و مرکزی بینک اپنی پالیسیوں کے واضح اعلانات سے ان توقعات پر اثر ڈال کر معیشت کو درست سمت میں لے جا سکتے ہیں۔
<h2>مرکزی بینکوں کے لیے عملی رہنمائی</h2>
انعام کی کمیٹی کے سربراہ جان ہیسلر نے کہا کہ ان ماڈلز کی بدولت دنیا اب توانائی کے بحران یا اخراجات میں اچانک تبدیلی جیسے معاشی دھچکوں سے بہتر طور پر نمٹ سکتی ہے۔ وڈفورڈ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکام کو معیشت کے استحکام کو ایسی مشق نہیں سمجھنا چاہیے گویا وہ معیشت میں بسنے والے لوگوں کی سمجھ سے کٹ کر محض چھڑی گھما کر سب ٹھیک کر سکتے ہیں۔
دنیا کے بڑے مرکزی بینک ان ماڈلز کا کثرت سے حوالہ دیتے ہیں۔ وڈفورڈ کے مطابق 2000 کی دہائی کے آخر کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد شرحِ سود کے مستقبل کے راستے کے بارے میں واضح اعلانات اس فریم ورک کا اہم حصہ تھے، جبکہ 1970 کی دہائی کے تیل کے دھچکوں کے دور میں مرکزی بینک آسمان چھوتی مہنگائی سے نمٹنے میں ناکام رہے تھے۔
رابرٹ ہال اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور 1943 میں کیلیفورنیا کے شہر پالو آلٹو میں پیدا ہوئے تھے، جبکہ مائیکل وڈفورڈ کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور 1955 میں میساچوسٹس کے شہر چکاپی میں پیدا ہوئے تھے۔
معاشیات کا نوبیل انعام اب تک زیادہ تر امریکی ماہرین کے نام رہا ہے اور صرف تین خواتین یہ اعزاز جیت سکی ہیں، جن میں آخری 2023 میں کلاؤڈیا گولڈن تھیں۔ گزشتہ برس کا انعام جوئل موکر، فلپ ایگھون اور پیٹر ہاوٹ نے جیتا تھا۔ طب، طبیعیات، کیمیا، ادب اور امن کے 2026 کے نوبیل انعامات کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا جا چکا تھا۔
ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ اور دیگر غیر متوقع دھچکوں کے موجودہ دور میں ہال اور وڈفورڈ کے ماڈل دنیا بھر کی وزارتیں خزانہ اور مرکزی بینکوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔