Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
Free E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
HomePakistanپشاور ہائی کورٹ: کے پی میں گورنر راج پر وفاق سے جواب طلب

پشاور ہائی کورٹ: کے پی میں گورنر راج پر وفاق سے جواب طلبPakistan

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-10-22
3 min read
0 views

دو رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کی اور اٹارنی جنرل سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے؛ کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔

پشاور ہائی کورٹ: کے پی میں گورنر راج پر وفاق سے جواب طلب
Share:

پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے منگل کو ابتدائی دلائل کی سماعت کے بعد کیس کی مزید کارروائی 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔

جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور ایڈووکیٹ سلمان خان کی علیحدہ درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سمیر خوسہ نے دلائل میں کہا کہ یہ اقدامات قانونی تقاضے پورے کیے بغیر نافذ کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کا کنٹرول نہیں کھویا تھا اور نہ ہی ایسے حالات موجود تھے جو ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز فراہم کرتے ہوں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی صرف جنگ یا بیرونی جارحیت کی صورت میں لگائی جا سکتی ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صرف اسی وقت استعمال ہو سکتا ہے جب حکومت کام کرنا بند کر دے۔

وکیل کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی خود مختاری اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا اختیار موجود تھا، اور ماضی میں بھی جب دہشت گردی عروج پر تھی تو صوبے میں ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے دوران بھی وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کو کام جاری رکھنا چاہیے۔

سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی ایک ہی روز نافذ کی گئی، اسی روز مشاورتی کونسل قائم کی گئی اور 38 ڈپٹی کمشنرز کے تبادلے بھی کیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی کو اٹھایا گیا ہے، پارٹی دفاتر مسمار کیے گئے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں توڑی گئی ہیں۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ حکومت کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں اضافے اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کی بنا پر یہ اقدام اٹھایا گیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے 11 رکنی تکنیکی مشاورتی کونسل کی معاونت سے صوبے کا انتظام سنبھال لیا تھا۔

بینچ نے اٹارنی جنرل کے دفتر سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ مزید حکم بعد میں جاری کیا جائے گا اور سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔

Related Coverage

Most Read

Follow Daily Hayat on Facebook

Stay updated with the latest news, breaking developments, and insightful coverage from Azad Kashmir and Pakistan.

Follow on Facebook
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad