Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
Free E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
HomeMirpurعدالتی فیصلوں پر عمل درآمد لازمی ہے، چیف جسٹس آزاد کشمیر کی افسروں کو وارننگ

عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد لازمی ہے، چیف جسٹس آزاد کشمیر کی افسروں کو وارننگMirpurmirpur

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-10-07
3 min read
0 views

آزاد کشمیر کے چیف جسٹس نے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی برداشت نہیں ہوگی، خاص طور پر میرپور میں رہائشی زمین پر تجارتی تعمیرات کا معاملہ اٹھایا۔

عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد لازمی ہے، چیف جسٹس آزاد کشمیر کی افسروں کو وارننگ
Share:

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے بقول، وہ فیصلہ جو نافذ نہ ہو سکے، مدعی کو مؤثر ریلیف نہیں دے سکتا۔ انہوں نے افسران پر عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی صورتحال برداشت نہیں کی جائے گی۔

نئے عدالتی سال 2026-27 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے خاص طور پر میرپور میں رہائشی پلاٹوں پر تجارتی عمارتیں تعمیر ہونے کے معاملے کا ذکر کیا۔ ان کے بقول، آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے رہائشی مقاصد کے لیے مختص زمین پر تجارتی پلازوں کی تعمیر کے خلاف واضح احکامات جاری کیے تھے، تاہم انہیں بتایا گیا کہ میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اس طرح کی تعمیر کو معمول کے مطابق اجازت دیتی ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

جسٹس اکرم کے مطابق، اطلاعات ہیں کہ میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بعض اہلکار اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے اس معاملے پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی توجہ مبذول کرائی اور حکومت سے کہا کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں یا نجی افراد کی جانب سے فیصلوں پر عمل درآمد میں تاخیر یا خلاف ورزی ریاست پر عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف کا سنہری اصول یہ ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے بغیر نظام انصاف کی ساکھ قائم نہیں رہ سکتی، اور عدالت اس سلسلے میں تمام تر قانونی اختیارات استعمال کرے گی۔

خوراک کی حفاظت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے فوڈ اتھارٹی کے قیام کا حکم دیا تھا، تاہم بعض اہلکار مبینہ طور پر عدالتی احکامات کا بہانہ بنا کر تاجروں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، ایسی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کا مقصد عوام کی فلاح ہے، نہ کہ ان کا ناجائز استعمال۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے عدالتی سال کے آغاز پر ججوں، وکیلوں اور عدالتی عملے کو یقین دلایا کہ عدلیہ آزاد کشمیر کے عوام کو بروقت اور غیر جانبدار انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے بقول، عدالتی احکامات کی تعمیل اداروں کی ذمہ داری ہے، اور اس میں کسی کوتاہی کی گنجائش نہیں۔

Related Coverage