8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کی 21ویں برسی پر مظفرآباد میں آگاہی واک، فلیگ مارچ اور شمعیں روشن کرنے کی تقریبات ہوئیں، جبکہ یوم شہدائے زلزلہ کی مرکزی تقریب آج خورشید حسن اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی جہاں صبح 8:52 پر سائرن بجایا جائے گا۔
مظفرآباد: 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کی 21ویں برسی کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں آفات سے بچاؤ اور ہنگامی تیاریوں کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی واک نکالی گئی، فلیگ مارچ ہوا اور شمعیں روشن کی گئیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو منعقد ہونے والی آگاہی واک کی قیادت قانون ساز اسمبلی کی سینئر رکن نورین عارف، مظفرآباد کے میئر سکندر نثار گیلانی، اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سعید قریشی اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی ریاستی شاخ کی سیکرٹری و سابق رکن اسمبلی گلزار فاطمہ نے کی۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
واک میں ضلعی انتظامیہ، ایس ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام اور متعدد فلاحی تنظیموں کے عہدیداروں کے علاوہ گرل گائیڈز، بوائے اسکاؤٹس، کشمیر فاریسٹ اسکول کے تربیت یافتہ نوجوانوں، سول سوسائٹی کے ارکان، طلبہ اور رضاکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شرکا نے آفات سے بچاؤ اور تحفظ کے پیغامات پر مبنی بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اگرچہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم بروقت تیاری، احتیاطی تدابیر اور مؤثر ہنگامی نظام کے ذریعے ان کے نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
واک کے اختتام پر ریسکیو 1122 کی ایمبولینسوں، فائر ٹینڈرز اور دیگر ہنگامی گاڑیوں پر مشتمل فلیگ مارچ نکالا گیا، جس میں سول ڈیفنس کے رضاکاروں، اسکاؤٹس، گائیڈز اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
غروب آفتاب کے بعد دریائے جہلم پر چھتر اور گوجرہ کے علاقوں کو ملانے والے کیبل اسٹیڈ پل پر شمعیں روشن کی گئیں۔ یہ پل زلزلہ یادگار پل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
<h2>یوم شہدائے زلزلہ کی مرکزی تقریب آج ہوگی</h2>
یوم شہدائے زلزلہ کی مرکزی تقریب جمعرات کو مظفرآباد کے خورشید حسن اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی۔ یہ وہی میدان ہے جس نے تباہی کے بعد متاثرین کے لیے ایک بڑے کیمپ کا کردار ادا کیا تھا، اور اس کے مغربی حصے میں شہدا کی یادگار قائم ہے۔
ایس ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل سعید قریشی کے مطابق صبح 8 بج کر 52 منٹ پر سائرن بجایا جائے گا — یہ وہی وقت ہے جب 21 سال قبل زلزلہ آیا تھا — جس کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور پولیس و ریسکیو 1122 کے دستے سلامی پیش کریں گے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی شہدا کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔
تقریب میں کابینہ اور اسمبلی کے ارکان، سرکاری عہدیداروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر معززین کی شرکت متوقع ہے۔ 2005 کے زلزلے کے بعد امدادی، بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں حصہ لینے والے ممالک کے قومی پرچم بھی تقریب گاہ میں لہرائے جائیں گے۔ وزیراعظم ایس ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کے قائم کردہ اسٹالز کا معائنہ کریں گے، جبکہ تقریری مقابلوں کے فاتح طلبہ میں شیلڈز بھی تقسیم کی جائیں گی۔
یوم شہدائے زلزلہ کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم افتخار گیلانی نے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے 8 اکتوبر کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زلزلے نے ہزاروں جانیں لیں، متعدد افراد زخمی ہوئے اور آزاد کشمیر بھر میں گھر، تعلیمی ادارے، اسپتال اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا۔ ان کے بقول یہ سانحہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات کو روکا تو نہیں جا سکتا، لیکن ادارہ جاتی تیاری، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کے ذریعے ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
<h2>تعمیر نو: 53 تعلیمی منصوبے دسمبر تک مکمل ہوں گے</h2>
دوسری جانب اسٹیٹ ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی (سیرا) کے سیکرٹری رفاقت حسین نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ایک ارب روپے کی مدد سے زلزلہ متاثرہ اضلاع کے 53 تعلیمی منصوبے دسمبر تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ یہ فنڈز رواں سال جون میں آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر ان 67 منصوبوں کی تکمیل کے لیے جاری کیے گئے تھے جو تقریباً 80 فیصد مکمل ہو چکے تھے۔
ان کے مطابق 14 منصوبے پہلے ہی مکمل کر کے متعلقہ محکموں کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی 53 منصوبوں پر کام دسمبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ منصوبے آزاد کشمیر حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہیں، جن کا مقصد زلزلہ متاثرہ اضلاع میں رکے ہوئے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی جلد از جلد تکمیل ہے۔
سیکرٹری سیرا نے بتایا کہ اتھارٹی کے مجموعی 7,608 منصوبوں میں سے 5,878 منصوبے مکمل کر کے متعلقہ محکموں کے حوالے کیے جا چکے ہیں، تاہم تعمیر نو کے پروگرام کی مکمل تکمیل کے لیے تاحال تقریباً 44 ارب روپے درکار ہیں، جن میں جاری منصوبوں کے لیے 20.113 ارب روپے اور باقی منصوبوں کے لیے 24.013 ارب روپے شامل ہیں۔