نیشِن میں کھیلے گئے سنسنی خیز فائنل میں بھارت نے 211 رنز کا ہدف دے کر پاکستان کو 192 رنز تک محدود رکھا، اور حسن نواز کی 96 رنز کی دھواں دار اننگز کے باوجود فتح اپنے نام کی۔
نیشِن، جاپان: بھارت نے ایشین گیمز 2026 کے مردوں کے کرکٹ فائنل میں روایتی حریف پاکستان کو 19 رنز سے شکست دے کر گولڈ میڈل کا کامیاب دفاع کیا ہے۔ کورگی اسپورٹس پارک میں 3 اکتوبر کو کھیلے گئے فائنل میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 211 رنز بنائے، جبکہ پاکستان کی ٹیم 20 اوورز میں 192 رنز بنا سکی۔
بھارتی کپتان شریاس آئیر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اوپنر ابھیشیک شرما نے دھواں دار آغاز کیا اور صرف 28 گیندوں پر 61 رنز بنائے، جن میں تین چوکے اور سات چھکے شامل تھے۔ انہوں نے محض 20 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ دوسری طرف نائب کپتان تلک ورما نے آخر میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 21 گیندوں پر ناقابلِ شکست 51 رنز بنائے اور ٹیم کو دو سو سے زائد کا ہدف دلایا۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
پاکستان کی اننگز میں حسن نواز نے زبردست مزاحمت کی۔ انہوں نے 51 گیندوں پر پانچ چوکوں اور سات چھکوں کی مدد سے 96 رنز بنائے اور صائم ایوب کے ساتھ 87 رنز کی شراکت قائم کی۔ تاہم، آخری گیند پر ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کی جیت کی امیدیں دم توڑ گئیں۔
بھارت کی جانب سے اکشر پٹیل اور واشنگٹن سندر نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ نازک صورتحال میں جسپریت بمراہ کے آخری سے پہلے اوور نے پاکستان کی رن رفتار کو روک دیا، جب آخری 12 گیندوں پر 44 رنز درکار تھے اور ٹیم دباؤ میں آ گئی۔
یہ بھارت کی پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں مسلسل ساتویں فتح ہے، جو 2021 سے جاری سلسلہ ہے۔ 2007 کے بعد سے دونوں ٹیموں کے درمیان 18 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بھارت نے 15 میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اس فتح کے ساتھ بھارت نے ایشین گیمز میں کرکٹ کا ڈبل مکمل کیا، کیونکہ خواتین کی ٹیم پہلے ہی گولڈ میڈل جیت چکی ہے۔ یہ بھارت کا جاری ایشین گیمز میں 19واں گولڈ میڈل ہے، اور مجموعی تمغوں کی تعداد 81 ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ میچ سے پہلے اور بعد میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان روایتی ہاتھ ملانے کا سلسلہ نہیں ہوا، جو حالیہ مقابلوں میں ایک معمول بن چکا ہے۔
بھارتی وکٹ کیپر بلے باز سنجو سیمسن نے فتح کے بعد کہا کہ ٹیم کو یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی۔ ان کے مطابق تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی نے دباؤ کے لمحات میں ٹیم کی مدد کی، اور مضبوط اسکواڈ بھیجنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔