مظفرآباد سے شازیہ کیانی ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت خواتین کو لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ کی سہولت اور ڈیجیٹل تربیت فراہم کرے تاکہ وہ گھر بیٹھے باعزت روزگار حاصل کر سکیں اور معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔
مظفرآباد: شازیہ کیانی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر خواتین کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے پر بھی خصوصی توجہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو لیپ ٹاپ فراہم کر کے انہیں آن لائن کام کرنے کے مواقع دیے جائیں تاکہ وہ گھر بیٹھے باعزت روزگار حاصل کر سکیں اور معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن روزگار خواتین کے لیے ترقی کے نئے راستے کھول رہے ہیں۔ ان کے بقول، اگر خواتین کو لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ کی سہولت اور جدید ڈیجیٹل ہنر کی تربیت فراہم کی جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف اپنے خاندان کی معاشی حالت بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
<h2>جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کی ضرورت</h2>
شازیہ کیانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں روایتی روزگار کے مواقع تک محدود رکھنے کے بجائے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ان کے مطابق آن لائن فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ اور دیگر شعبوں میں تربیت فراہم کر کے خواتین کو باعزت روزگار کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت آزاد کشمیر پر زور دیا کہ خواتین کی ڈیجیٹل تعلیم، فنی تربیت اور خود روزگاری کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ آزاد کشمیر کی خواتین خود انحصاری کی جانب بڑھیں، معاشی استحکام حاصل کریں اور معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آن لائن روزگار کے مواقع سے خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ہنر سے لیس خواتین نہ صرف اپنے گھروں کی کفالت میں معاون ثابت ہوں گی بلکہ آزاد کشمیر کی معیشت کو بھی مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔ ان کے بقول، حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتیں خواتین کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھولیں گی اور انہیں معاشرے میں ایک باعزت مقام ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام آزاد کشمیر کی خواتین کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔