آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے کراچی پریس کلب میں طبی کیمپ کے موقع پر ماہرین نے کہا کہ امراض قلب وبائی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور نوجوانوں میں دل کے دورے کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔
کراچی پریس کلب میں آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے طبی کیمپ کے موقع پر ماہرین صحت نے دل اور دیگر بیماریوں میں تشویشناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کو صحت مند طرز زندگی اپنانے اور بچوں میں فاسٹ فوڈ کے استعمال کی حوصلہ شکنی کا مشورہ دیا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال نے کراچی پریس کلب کے اشتراک سے یہ طبی کیمپ منعقد کیا تھا، جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے طبی معائنے کرائے۔
اشتہار / ADVERTISEMENT728 × 90 In-Content Banner
اس موقع پر ڈاکٹر جاوید اے خان نے زور دیا کہ طرز زندگی میں تبدیلی اب ناگزیر ہو چکی ہے اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے تمباکو نوشی اور تمباکو کی دیگر صورتوں سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو صحت کے لیے مضر ہے اور احتیاطی تدابیر سے متعلق بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
<h2>دل کے امراض وبائی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں</h2>
آغا خان یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر آف کارڈیالوجی ڈاکٹر یاور سعید نے کہا کہ پاکستان میں امراض قلب وبائی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں، اور گزشتہ ایک دہائی میں نوجوانوں میں دل کے دورے کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
انہوں نے خوراک میں اعتدال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ زیادہ کھانے سے گریز کیا جائے اور متوازن و غذائیت بخش خوراک اپنائی جائے۔ ان کے مطابق مثبت طرز زندگی میں تبدیلی امراض قلب کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں دل کے امراض میں اضافے کی بڑی وجوہات میں غیر متوازن خوراک، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال، تمباکو نوشی اور جسمانی سرگرمی کی کمی شامل ہیں، اور ان پر قابو پائے بغیر بیماریوں کے بوجھ کو کم نہیں کیا جا سکتا۔
<h2>مفت طبی سہولتیں</h2>
کراچی پریس کلب کے سیکرٹری محمد اسلم خان نے طبی کیمپ کے انعقاد پر آغا خان یونیورسٹی اسپتال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نجی صحت سہولتیں عام مریضوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
کیمپ میں مختلف طبی ٹیسٹ کیے گئے، جن میں ایکو کارڈیوگرام اور ای سی جی کے علاوہ امراض قلب اور امراض پھیپھڑوں کی مشاورت شامل تھی، اور بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔
منتظمین کے مطابق اس طرح کے طبی کیمپ صحافی برادری کے لیے مفت معائنوں کا موقع فراہم کرتے ہیں اور عوام میں صحت کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔