ریاض کے کنگ خالد ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملے کے دعوے کے بعد لفتھانزا اور ایئر انڈیا نے پروازیں معطل کر دی ہیں جبکہ ریاض ایئرپورٹ کی تقریباً نصف پروازیں منسوخ ہو گئیں۔
ریاض: یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی دارالحکومت کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کے دعوے کے بعد جرمنی کی لفتھانزا گروپ کی ایئر لائنز اور بھارت کی ایئر انڈیا نے ریاض کی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لفتھانزا گروپ کی ایئر لائنز مشرق وسطیٰ کی “موجودہ صورتحال” کے پیش نظر 16 اکتوبر تک ریاض کی پروازیں معطل رکھیں گی، جبکہ ایئر انڈیا نے سعودی دارالحکومت کی تمام پروازیں 10 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں۔ متعدد دیگر ایئر لائنز نے بھی پروازیں منسوخ یا ملتوی کی ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ رائٹرز کے مطابق جمعرات کو ریاض کے ہوائی اڈے پر ایک کھڑے طیارے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے۔
دی نیشنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ریاض اور ابہا ہوائی اڈوں پر ہونے والے پہلے حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق جمعرات کو ریاض ایئرپورٹ کی تقریباً نصف روانگیاں منسوخ ہوئیں اور ہوائی اڈے نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی ایئر لائن سے رابطہ کریں۔
رپورٹوں کے مطابق میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ریاض میں ایک نرسری اور ایک طبی کلینک کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ بھارت نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب میں محتاط رہنے اور گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ امریکہ نے اپنے سرکاری ملازمین کے لیے ریاض ایئرپورٹ کے استعمال سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔
دوسری جانب حوثیوں نے سعودی تیل کے مقامات کے عملے کو ان مقامات سے نکلنے کی وارننگ بھی دی ہے، جس سے علاقے میں توانائی کی تنصیبات کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع ستمبر سے شدت اختیار کر گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق حوثیوں نے الحدیدہ اور تعز کے صوبوں میں اہم مقامات کا قبضہ کیا، جن میں موخا کی بندرگاہ اور آبنائے باب المندب میں میون جزیرہ شامل ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کھو دیا ہے اور خلیج سے تیل کی برآمدات تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہیں، تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
ادھر پاکستان اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، تحمل، بات چیت اور آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے جہاز رانی کی آزادی اور تحفظ یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔