پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو مندی کا رجحان رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1,138.50 پوائنٹس کی کمی کے بعد 167,441.90 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 01 پیسے کی معمولی بہتری دیکھی گئی۔
کاروبار کے آغاز پر ہی مندی کا رجحان نمایاں تھا، اور کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی سیشن میں 309.99 پوائنٹس کی کمی کے بعد 168,270.41 پوائنٹس پر آ گیا تھا۔ دن بھر فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور اختتام پر انڈیکس 1,138.50 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ میں مجموعی طور پر 570 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں سے 130 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 324 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی جبکہ 116 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ مجموعی طور پر 365.86 ملین حصص کا کاروبار ہوا جن کی مالیت 17.72 ارب روپے رہی۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
کے ایس ای 30 انڈیکس 405.13 پوائنٹس کی کمی کے بعد 49,983.85 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ اسلامی مالیات کا حامل کے ایم آئی 30 انڈیکس 1,444.30 پوائنٹس کی کمی کے بعد 240,418.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔ فیوچر ٹریڈنگ کے تحت مجموعی طور پر 6.47 ارب روپے مالیت کے سودے طے پائے۔
کاروبار کے حجم کے لحاظ سے کے الیکٹرک 29.66 ملین حصص کے ساتھ سرِفہرست رہی، جبکہ سینرجیکو پی کے لمیٹڈ کے 21.32 ملین اور ویوز ہوم اپلائنسز کے 16.91 ملین حصص کا لین دین ہوا۔ سرِفہرست ایڈوانسر کمپنیوں میں یونی کیپ مضاربہ، دیوان شوگر ملز لمیٹڈ اور ستارہ پرکسیڈ لمیٹڈ شامل رہیں۔
ادھر انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 01 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 277 روپے 01 پیسے ہو گئی۔
انٹربینک مارکیٹ میں سعودی ریال کی قدر 73 روپے 79 پیسے، بحرینی دینار کی قدر 734 روپے 75 پیسے، عمانی ریال کی قدر 719 روپے 54 پیسے، کویتی دینار کی قدر 898 روپے 98 پیسے اور قطری ریال کی قدر 75 روپے 99 پیسے ریکارڈ کی گئی۔ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 277 روپے 50 پیسے اور قیمت فروخت 278 روپے 10 پیسے رہی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق جمعرات کو انڈیکس پر دباؤ کی ایک وجہ منافع کی فروخت تھی، جو ہفتے کے ابتدائی سیشنز میں ریکارڈ بحالی کے بعد دیکھی گئی۔ سرمایہ کار معاشی اشاروں اور عالمی مارکیٹوں کے رجحانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور اگلے سیشنز میں مارکیٹ کی سمت انہی عوامل سے متعین ہوگی۔