ضلعی صحت حکام نے بتایا ہے کہ اکتوبر کے پہلے چار دنوں میں سات نئے ڈینگی کیسز سامنے آئے جبکہ زیادہ خطرے والے علاقوں کی تعداد بڑھ کر 33 یونین کونسلز ہو گئی ہے۔
راولپنڈی میں ڈینگی کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی نگرانی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے پہلے چار دنوں میں سات نئے کیسز سامنے آئے، جن میں سے دو گزشتہ 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہوئے۔ مقامی اسپتالوں کے آئسولیشن وارڈز میں 10 تصدیق شدہ مریض زیر علاج ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسپتالوں میں اسکریننگ کی تعداد 4,893 سے بڑھ کر 5,094 ہو گئی، جبکہ چار دنوں میں 179 نئے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، یوں سال 2026 میں مشتبہ کیسز کی مجموعی تعداد 4,699 تک پہنچ گئی۔
اشتہار / ADVERTISEMENT728 × 90 In-Content Banner
مجموعی اسپتال داخلوں میں معمولی کمی آئی اور تعداد 15 سے گھٹ کر 13 رہ گئی، تاہم اسپتال میں داخل تصدیق شدہ ڈینگی مریضوں کی تعداد 10 پر مستحکم رہی۔ صحت حکام نے تصدیق کی کہ ضلع میں اب تک ڈینگی سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔
<h2>زیادہ خطرے والے علاقے</h2>
سات نئے مریض جن یونین کونسلوں سے رپورٹ ہوئے ان میں سی ٹی سی-8، فوجی کالونی، اڈیالہ، واہ، پنڈورہ، قیوم آباد اور دھمیاں سیداں شامل ہیں۔
بریٹو انڈیکس 10 سے زائد والے زیادہ خطرے والے علاقوں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 33 یونین کونسلز ہو گئی ہے، جبکہ سب سے زیادہ لاروا رٹہ امرال، ڈھوک نجو، فوجی کالونی، ڈھوک بابو عرفان، تخت پری اور ہزارہ کالونی میں ریکارڈ کیا گیا۔
صحت حکام کے مطابق ان علاقوں میں مچھر کے لاروا کی افزائش گاہوں کی نشاندہی کے لیے سروے جاری ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
<h2>سختی اور جرمانے</h2>
انفورسمنٹ ٹیموں نے 81 نئی ایف آئی آرز درج کیں، آٹھ عمارتیں سیل کر دیں، 92 نئے چالان جاری کیے اور 3,24,000 روپے کے نئے جرمانے عائد کیے، یوں وصول کیے گئے جرمانوں کی مجموعی مالیت 31.5 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی۔
محکمہ صحت کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں اسپرے اور لاروا تلف کرنے کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مچھروں کی افزائش پر قابو پایا جا سکے۔
ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی سے بچاؤ کا بہترین طریقہ مچھروں کی افزائش گاہوں کا خاتمہ، ٹھہرے ہوئے پانی کا صفایا اور مچھر دانی کا استعمال ہے۔
صحت حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گھروں اور دفاتر میں پانی جمع نہ ہونے دیں اور مچھروں کی افزائش گاہوں کے خاتمے میں تعاون کریں۔