پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور چار گھنٹے سے زائد جاری رہا تاہم کوئی سرکاری نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔
حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان ہفتے کی سہ پہر پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوا جس میں پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم کوئی سرکاری نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی۔ اجلاس سہ پہر 5 بجے سے کچھ قبل شروع ہوا اور چار گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اجلاس کے آغاز پر اسپیکر نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات اسی خوشگوار ماحول میں آگے بڑھیں گے جیسے جمعے کے روز پہلے دور میں تھے۔
اشتہار / ADVERTISEMENT728 × 90 In-Content Banner
حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے سرحدی امور امیر مقام، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری شامل تھے۔ پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے کی۔
<h2>اپوزیشن کے مطالبات</h2>
اپوزیشن وفد میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، چیف وہپ عامر ڈوگر، اسد قیصر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین عمران خان تک رسائی، سپریم کورٹ کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ سے ان کے معائنے اور ان کے معتمد افراد سے ملاقات کی اجازت کا مطالبہ کیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر کا لانگ مارچ غیر مشروط طور پر واپس لے، اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رات گئے ڈان نیوز ٹی وی کی فوٹیج میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو ہاتھ میں دستاویز لیے پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے دیکھا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ ممکنہ طور پر صدر سے مشاورت کے لیے گئے تھے۔ ایک گھنٹے سے زائد بعد وہ پارلیمنٹ ہاؤس واپس آئے تاہم صحافیوں کے سوالات کا جواب نہ دیا۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین کی جانب سے میڈیا سے بات چیت سے گریز کیا گیا اور سرکاری طور پر مذاکرات کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں اتوار کو مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق ہو گئی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے۔