یمن کے شبوہ صوبے میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے تین بیلسٹک میزائلوں کے حملے میں 53 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہوگئے، جبکہ ملک میں لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔
صنعا: یمن کے جنوبی وسطی صوبے شبوہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے ایک تربیتی کیمپ پر پیر کے روز کیے گئے میزائل حملے میں 53 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔ مقامی حکام کے مطابق ایران کے حامی حوثی گروپ نے تربیت کی مشق کے دوران فورسز پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جس سے کیمپ میں شدید تباہی ہوئی۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ اس وقت ہوا جب سکیورٹی اہلکار تربیتی مشق میں مصروف تھے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں شبوہ کے علاقے میں زخمی اور خون آلود لاشیں زمین پر بکھری نظر آئیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نشانہ بنایا گیا کیمپ سعودی افواج چلا رہی تھیں۔ تاہم سعودی حکام نے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپیں ستمبر سے شدت اختیار کرگئی ہیں، جب حوثیوں نے باب المندب آبنائے کے قریب علاقوں کی جانب پیش قدمی کی۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کے منہ پر واقع ایک اہم عالمی جہاز رانی کا راستہ ہے۔
شبوہ یمن کا توانائی کے وسائل سے مالامال صوبہ ہے، جہاں بلہاف مائع قدرتی گیس کی سہولت قائم ہے، جو ملک کی سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری شمار ہوتی ہے۔ سرکاری افواج نے اس ماہ حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے، جس میں آبنائے کے قریب زمینی علاقوں میں پیش قدمی کی گئی ہے، جبکہ حوثی گروپ نے تعز شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے، جو حوثی مخالف فورسز کا جنوبی پہاڑی علاقوں میں آخری بڑا شہری مرکز ہے۔
رائٹرز کے مطابق یمن کا تنازعہ اب ایران کے خلاف جاری وسیع تر امریکی اور اسرائیلی جنگ کا ایک اور محاذ بن چکا ہے، کیونکہ حوثیوں نے سعودی عرب پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ ان حملوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سرکاری تیل کمپنی آرامکو کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔
یمن میں 2014 میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا اور حکومت کو جنوب کی جانب دھکیل دیا۔ اگلے سال سعودی قیادت میں فوجی مداخلت شروع ہوئی، جس کے بعد ایک طویل تعطل پیدا ہوا۔ 2022 میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جو اس سال ٹوٹ گیا۔ امدادی اداروں کے مطابق یمن پہلے ہی دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے، جہاں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔