
ڈار: چینی برآمد ہوگی مگر عوام کو مہنگائی نہیںPakistan
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہدایت کی ہے کہ اضافی چینی کی برآمد سے ملکی صارفین پر قیمتوں کا بوجھ نہیں پڑنا چاہیے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بدھ کے روز متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ قومی طلب پوری کرنے کے لیے چینی کے اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں اور اضافی چینی کی برآمد سے خوردہ قیمتوں پر دباؤ نہ پڑے۔ وہ اضافی چینی کی برآمد سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
اجلاس میں ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اضافی اجناس کی برآمد زرعی معیشت کو مضبوط بنانے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے کے لیے ضروری ہے، تاہم ملکی صارفین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق انہوں نے کمیٹی کے ارکان کی خدمات کو سراہا اور اضافی چینی کی برآمد کو آسان بنانے میں ان کی اجتماعی کوششوں کی تعریف کی۔
اجلاس میں اضافی چینی کی برآمد کو منظم بنانے اور انتظامی، تکنیکی اور طریقہ کار سے متعلق فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ موجودہ اسٹاک کی سطح اور ملکی کھپت کی ضروریات کا مکمل جائزہ لیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ برآمدات سے ملکی قیمتوں کے استحکام پر کوئی اثر نہ پڑے۔
کمیٹی نے آئندہ کرشنگ سیزن تک چینی کے حتمی اسٹاک کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا تاکہ اضافی مقدار کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور ملک بھر میں مقامی کھپت کے لیے وافر ذخائر کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ ڈار نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ برآمد کے عمل کے دوران سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے اور مارکیٹ میں کسی بگاڑ کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی کے انتظامات قائم کیے جائیں۔
اجلاس میں وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزیر اقتصادی امور، وزیر مملکت برائے خزانہ، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار، معاون خصوصی طارق باجوہ اور خزانہ، تجارت، قانون و انصاف اور قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سیکرٹریز سمیت متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ حکومت کا موقف ہے کہ کسانوں اور شوگر انڈسٹری کی مدد اور زرمبادلہ کے حصول کے ساتھ ساتھ عام صارف کے لیے چینی کی قیمت مستحکم رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے، اور برآمدی فیصلے اس توازن کو خراب نہیں کریں گے۔






