
لولا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، بولسونارو کو شکستWorld
برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے رن آف انتخاب میں فلاویو بولسونارو کو شکست دے کر چوتھی مدت جیت لی ہے، جبکہ بولسونارو نے نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

برازیلیا: برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے چوتھی بار ملک کی صدارت جیت لی ہے۔ اتوار 25 اکتوبر کو ہونے والے رن آف میں لولا نے 51.79 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف سینیٹر فلاویو بولسونارو کو 48.21 فیصد ووٹ ملے۔ حتمی نتائج کے مطابق لولا کو 64.26 ملین جبکہ بولسونارو کو 59.83 ملین ووٹ ملے، یعنی دونوں کے درمیان فرق تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کا رہا۔
یہ نتیجہ ایک ڈرامائی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ 4 اکتوبر کو پہلے مرحلے میں بولسونارو نے 47.03 فیصد ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل کی تھی جبکہ لولا کو 45.16 فیصد ووٹ ملے تھے۔ دوسرے مرحلے میں ٹرن آؤٹ 80.8 فیصد رہا، جو پہلے مرحلے کے 78.92 فیصد سے زیادہ تھا۔ رپورٹس کے مطابق لولا 1985 میں شہری حکومت کی بحالی کے بعد پہلے صدر ہیں جو پہلا مرحلہ ہارنے کے باوجود انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے۔
لولا نے اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے حامیوں سے کہا کہ یہ فتح منفی مہم، جھوٹ اور نفرت کی شکست ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ برازیل کسی کا پچھواڑا نہیں بنے گا، جسے ان کے اس موقف کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے کہ ملک اپنی خارجہ پالیسی میں خود مختاری برقرار رکھے گا۔ کئی عالمی رہنماؤں نے لولا کو مبارکباد دی ہے۔
دوسری جانب فلاویو بولسونارو نے نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ انتخاب کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔ ان کا اعتراض ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع پر ہے، جس کا حکم سپریم کورٹ کے جسٹس کرسٹیانو زانن نے دیا تھا۔ بولسونارو نے اس توسیع کو ناقابل قبول اور ایک گندی چال قرار دیا ہے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق دونوں امیدواروں نے ٹرانسپورٹ کی مشکلات اور شدید موسم کے باعث ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی۔
سپریم الیکٹورل کورٹ نے لولا کی کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وقت میں توسیع سے نتیجے پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ بولسونارو کی جماعت لبرل پارٹی نے بھی نتائج تسلیم کر لیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عدالت میں نتیجہ پلٹنا مشکل ہوگا، کیونکہ ان کی اپنی مہم نے بھی توسیع کی درخواست کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخاب کو ایک اور دھاندلی زدہ انتخاب قرار دیا، تاہم کہا کہ یہ لولا کے خلاف ذاتی حملہ نہیں ہے۔
لولا کی نئی مدت 5 جنوری سے شروع ہوگی اور 2030 تک جاری رہے گی۔ لولا اس سے قبل 2003 سے 2010 تک دو مرتبہ اور 2023 سے دوبارہ صدر رہ چکے ہیں۔ ان کے سامنے اب کئی چیلنجز ہیں، جن میں مخالف کانگریس سے نمٹنا، عوامی اخراجات، گھریلو قرضوں اور مہنگائی کا مسئلہ شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی خطے میں دائیں بازو کی کامیابیوں کے سلسلے کو روکتی ہے، لیکن لولا کو ایک منقسم ملک اور مضبوط اپوزیشن کے ساتھ حکومت کرنا ہوگی۔






