
آزاد کشمیر: ہیپاٹائٹس کی مفت اسکریننگ و علاج کا آغازAzad Kashmir
آزاد کشمیر میں ہیپاٹائٹس کی مفت اسکریننگ اور علاج کی سہولت شروع ہو گئی ہے، جس کے تحت مریضوں کو پی سی آر ٹیسٹ اور چھ ماہ تک مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔

مظفرآباد میں وزیراعظم پاکستان کے قومی پروگرام کے تحت آزاد کشمیر میں ہیپاٹائٹس کی مفت اسکریننگ اور علاج کی سہولت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مریضوں کی بروقت تشخیص کے ساتھ ساتھ ادویات سمیت مکمل علاج مفت فراہم کیا جائے گا تاکہ اس موذی مرض پر قابو پایا جا سکے اور اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
پروگرام کے آزاد کشمیر میں کوآرڈینیٹر کے مطابق ابتدا میں اسکریننگ کا عمل آزاد کشمیر کے منتخب اضلاع میں شروع کیا گیا ہے جن میں مظفرآباد، وادی جہلم، باغ، کوٹلی اور میرپور شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں شہروں میں اسکریننگ کی جا رہی ہے اور بعد میں اس سہولت کو بنیادی مراکز صحت یعنی بی ایچ یو کی سطح تک توسیع دی جائے گی تاکہ دیہی علاقوں کے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
طریقہ کار کے مطابق اگر ہیپاٹائٹس سی کا ابتدائی ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو مزید تشخیص کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا۔ یہ پی سی آر ٹیسٹ عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کیے جائیں گے اور ان کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ جن مریضوں میں مرض کی تصدیق ہو جائے گی انہیں چھ ماہ تک مفت ادویات سمیت مکمل علاج فراہم کیا جائے گا۔
کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں اسکریننگ مصری ماڈل پر کی جا رہی ہے جس کے تحت بڑے پیمانے پر لوگوں کی جانچ کر کے مریضوں کی بروقت نشاندہی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے، اس لیے اس مرض پر بروقت قابو پانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بارہ سال سے زائد عمر کے تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنی اسکریننگ ضرور کروائیں تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
پی سی آر ٹیسٹ کی مشین کے حوالے سے پائی جانے والی بے یقینی پر کوآرڈینیٹر نے کہا کہ اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہاں بہترین سہولتیں موجود ہیں اور مشین کے ٹیسٹ معیاری طریقے سے کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کو معیاری تشخیص اور علاج کی فراہمی پروگرام کی اولین ترجیح ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس ایک خاموش مرض ہے جو اکثر ابتدائی مراحل میں ظاہر نہیں ہوتا اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی لیے مفت اسکریننگ کی سہولت کو عوامی صحت کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے وہ افراد بھی ٹیسٹ کروا سکیں گے جو مہنگے ٹیسٹوں کی وجہ سے پہلے جانچ سے گریز کرتے تھے۔
پروگرام کے تحت آئندہ مرحلے میں اسکریننگ کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے تاکہ آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں تک بھی یہ سہولت پہنچ سکے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ قریبی صحت مراکز سے رابطہ کر کے مفت اسکریننگ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی قومی کوشش میں اپنا حصہ ڈالیں۔






