
راولاکوٹ میں دھرنے پر کارروائی، 3 افراد کی ہلاکت کی اطلاعاتAzad Kashmir
راولاکوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے خلاف جمعرات کی صبح کی گئی کارروائی کے بعد ہلاکتوں کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

راولاکوٹ میں جمعرات کی صبح سیکیورٹی فورسز نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپوں کے خلاف کارروائی کی، جس کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق کارروائی صبح تقریباً چھ بجے متیال مرہ بس ٹرمینل اور ڈی چوک سمیت کئی مقامات پر کی گئی، جہاں مظاہرین پانچ جون سے دھرنا دیے ہوئے تھے۔
ایکشن کمیٹی کے ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران تین افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔ کمیٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت احتشام، عاطف نور اور عادل رشید کے نام سے ہوئی ہے۔ تاہم ایک مقامی صحافی کے حوالے سے پانچ ہلاکتوں کی بھی خبر سامنے آئی ہے، جبکہ بعض دیگر دعوؤں میں یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور پولیس نے تاحال ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف ڈرون اور بھاری ہتھیار استعمال کیے۔ کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عمر نذیر نے کہا کہ احتجاجی کیمپوں کو چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا گیا اور ڈرون حملے دو سے تین گھنٹے تک جاری رہے۔ ان دعوؤں کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب پولیس کا موقف ہے کہ کارروائی کا مقصد بس ٹرمینل کے قریب سڑکوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانا اور آمدورفت بحال کرنا تھا۔ پونچھ ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران مسلح افراد نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ بیان میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا، تاہم ہلاکتوں کے بارے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔
کارروائی کے بعد ضلعی انتظامیہ نے راولاکوٹ میں دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کے تحت عوامی اجتماعات اور نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مقامی مساجد سے اعلانات کے ذریعے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق بس ٹرمینل کے اطراف میں موبائل فون سروس بھی متاثر رہی۔ بس ٹرمینل کے قریب ایک رہائشی مکان میں آگ لگنے کی بھی اطلاع ملی ہے، تاہم آگ لگنے کی وجہ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ہلاکتوں کی خبروں کے بعد مظفرآباد میں بھی مظاہرے ہوئے۔ جامعہ آزاد جموں و کشمیر اور اپر اڈہ کے مقام پر طلبہ نے احتجاج کیا اور واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
دھرنے کا پس منظر
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا دھرنا تقریباً پانچ ماہ سے جاری تھا۔ کمیٹی بجلی کی قیمتوں میں ریلیف، روزگار کے مواقع اور بنیادی حقوق سمیت اڑتیس عوامی مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کر رہی تھی۔ حکومت نے کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔
ہلاکتوں اور ڈرون حملوں کے متضاد دعوؤں کے بعد واقعے کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی کا مقصد امن و امان کی بحالی اور عوامی راستوں کو کھولنا تھا۔ واقعے کے اصل حقائق کے بارے میں تاحال متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔






