اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 9 روپے 41 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 352 روپے 59 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 56 پیسے سستا ہو کر 382 روپے 25 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتیں 6 نومبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ مسلسل چوتھے روز ایندھن کی قیمتوں میں کمی ہے۔ پیر سے اب تک پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 25 روپے 32 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی ہو چکی ہے، جو صارفین کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے۔
اس سے قبل بدھ کو بھی حکومت نے 5 نومبر کے لیے پٹرول کی قیمت میں 7 روپے 6 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی۔ اس طرح رواں ہفتے کے دوران قیمتوں میں کمی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس سے عوام اور کاروباری طبقے کو نقل و حمل اور دیگر اخراجات میں کچھ حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
روزانہ قیمتوں کا نیا نظام
پاکستان میں 17 جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے کا نظام نافذ ہے، جس نے ہفتہ وار جائزے کے پرانے طریقہ کار کی جگہ لی ہے۔ اس نظام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کا فوری جواب دینا ہے تاکہ ملکی صارفین کو بروقت ریلیف یا قیمتوں میں تبدیلی سے آگاہ کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت صارفین کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں حکومت نے بتایا تھا کہ تیل کی ریفائنریز ملکی سطح پر پٹرول کی قیمت کو عالمی منڈی سے تقریباً 15 روپے فی لیٹر کم رکھنے کے لیے ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا مالی بوجھ برداشت کریں گی۔
ایندھن سبسڈی اسکیم
وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو ایندھن سے متعلق ایک ہدفی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا جس کے تحت موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والے رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اس اسکیم سے تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ افراد مستفید ہونے کی توقع ہے، جن میں ایک کروڑ موٹر سائیکل صارفین، آٹھ لاکھ رکشہ صارفین اور دس لاکھ چھوٹی گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل کمی سے مہنگائی پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے کیونکہ نقل و حمل کی لاگت میں کمی سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی منڈی کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آئندہ دنوں میں قیمتوں کا رجحان تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
صارفین اور ٹرانسپورٹرز نے قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔








