آزاد کشمیر حکومت نے گریڈ 20 کے ڈی جی سول ڈیفنس کو سیکرٹریز سلیکشن بورڈ اجلاس میں سینئر افسر سے مبینہ بدسلوکی پر معطل کر کے محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے گریڈ 20 کے ایک اعلیٰ افسر کو معطل کر دیا ہے جن پر ایک سینئر سرکاری افسر سے بدسلوکی کا الزام ہے۔ معطل کیے گئے افسر کا تعلق آزاد کشمیر انتظامیہ سروس سے ہے اور وہ سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، مبینہ واقعہ آزاد جموں و کشمیر سیکرٹریز سلیکشن بورڈ کے ایک اجلاس کے دوران پیش آیا، جہاں افسر نے ایک سینئر افسر کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔ حکومت نے یہ معطلی آزاد جموں و کشمیر سول سرونٹس (ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1977 کے تحت کی ہے، اور ساتھ ہی متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
<h2>معطلی کی وجوہات</h2>
ڈان اخبار کی 13 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، اعلامیے میں افسر پر مس کنڈکٹ یعنی بدانتظامی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیکرٹریز سلیکشن بورڈ کا اجلاس جاری تھا، جو ایک اعلیٰ سطحی انتظامی فورم ہے اور اس میں سینئر افسران کی تقرری اور انتظامی امور پر غور کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، افسر کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر میں سینئر افسران کے ساتھ نامناسب رویہ ناقابل قبول ہے، خاص طور پر جب بات اعلیٰ انتظامی بورڈز کی ہو جہاں نظم و ضبط اور پروٹوکول کی سخت پابندی متوقع ہوتی ہے۔
<h2>محکمانہ کارروائی کا آغاز</h2>
حکومتی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ معطل افسر کے خلاف باضابطہ محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سول سرونٹس (ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن) رولز کے تحت اس طرح کی کارروائی میں الزامات کی تحقیقات، افسر کو دفاع کا موقع اور پھر حتمی فیصلہ شامل ہوتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزاد کشمیر کی انتظامیہ میں شفافیت اور جوابدہی کی فضا کو مضبوط کرے گا۔ انتظامی حلقوں میں یہ تاثر پائے جاتا ہے کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے ڈسپلن کی سخت پابندی ناگزیر ہے۔
<h2>انتظامی حلقوں کا ردعمل</h2>
انتظامی حلقوں میں اس فیصلے کو مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ سول سروس سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بورڈ اجلاسوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات ادارہ جاتی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور ان کے خلاف بروقت کارروائی ضروری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رپورٹ میں معطل افسر کا نام شامل نہیں ہے، اور حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاحال محکمانہ کارروائی کی ابتدائی سطح پر ہے، اور حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔