وفاقی حکومت نے 17 سے 19 اکتوبر کے لیے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لٹر کمی کر دی، جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار رہے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے جائزے کا نیا نظام نافذ ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 17 سے 19 اکتوبر تک کے لیے ہو گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لٹر قیمت 390 روپے 23 پیسے سے کم ہو کر 386 روپے 30 پیسے مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 96 پیسے فی لٹر پر برقرار رہے گی۔ حکام کے مطابق قیمتوں میں یہ ردوبدل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے طے کردہ طریقہ کار کی بنیاد پر کیا ہے۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
اوگرا نے صارفین میں شفافیت بہتر بنانے کے لیے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں شائع کرنا بھی شروع کر دی ہیں، تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کی تبدیلیوں کا اثر جلد از جلد صارفین تک منتقل ہو سکے۔
<h2>روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا جائزہ</h2>
وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ کی قیمتیں عالمی منڈی میں گزشتہ سات روز کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہیں، جو بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے جائزے کا نظام اختیار کیا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ سے منظور شدہ نئے طریقہ کار کے تحت اوگرا وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر روزانہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرے گی، تاہم جمعہ کو اعلان کی گئی قیمتیں ہفتہ اور اتوار کو تبدیل نہیں ہوں گی۔ دستاویز کے مطابق پٹرولیم لیوی کابینہ کی منظور شدہ حد سے تجاوز نہیں کرے گی، اور اس میں کسی بھی تبدیلی کے لیے محکمہ خزانہ کی منظوری ضروری ہو گی۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد حکومت نے پہلے ہفتہ وار جائزے کا نظام متعارف کرایا تھا، جبکہ اس سے قبل قیمتیں ہر پندرہ دن بعد نظرثانی کی جاتی تھیں۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کا نیا فریم ورک جولائی 2026 سے نافذ العمل ہے۔
<h2>درآمدی انتظامات میں تبدیلی</h2>
جیو نیوز کی دستاویز کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے ایندھن کی درآمد کے انتظامات میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد خصوصی طور پر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ذریعے ہو گی، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے مارکیٹ شیئر کے مطابق پٹرول درآمد کر سکیں گی۔
دستاویز کے مطابق درآمدی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والی کمپنیوں کو نو ماہ تک نئی درآمدی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں کا تعین بھی روزانہ کی بنیاد پر ہو گا، اور متعلقہ حکام کو نئے طریقہ کار پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔