
ایف بی آر کو ٹیکس ہدف میں 129 ارب روپے کی کمیBusiness
ایف بی آر کی جولائی تا اکتوبر وصولیاں ہدف سے پیچھے رہیں، جبکہ ریٹیلرز کی فکسڈ ٹیکس اسکیم میں بھی صرف محدود دلچسپی دیکھنے میں آئی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ، جولائی تا اکتوبر کے دوران 4,088.2 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، جو مطلوبہ ہدف سے تقریباً 129 ارب روپے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مدت میں ٹیکس وصولیوں میں صرف 7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ ہدف حاصل کرنے کے لیے 17 فیصد نمو درکار ہے۔
حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 15,264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کر رکھا ہے، جو 30 جون 2027 تک حاصل کرنا ہے۔ پہلے چار ماہ کی کارکردگی کے بعد باقی آٹھ ماہ میں اس ہدف تک پہنچنا ایف بی آر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
اکتوبر کا مہینہ اس مدت کا کمزور ترین مہینہ رہا، تاہم مہینے کے آخری دن وصولیوں میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 30 اکتوبر تک وصولیاں 4,061.2 ارب روپے تھیں، جو 31 اکتوبر کو بڑھ کر 4,088.2 ارب روپے ہو گئیں۔ اکتوبر میں مجموعی طور پر 1,002 ارب روپے جمع ہوئے، جبکہ اس سے قبل یہ رقم 975 ارب روپے تھی۔
انکم ٹیکس گوشوارے اور ریٹیلرز اسکیم
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 7.6 ملین گوشوارے موصول ہوئے۔ ایف بی آر نے گوشواروں کی تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی تھی، پہلے 30 ستمبر سے 15 اکتوبر تک اور پھر 15 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک۔ رپورٹ کے مطابق 31 اکتوبر کی آخری تاریخ کے بعد گوشوارے جمع کرانے میں مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔
ریٹیلرز کے لیے مقرر کردہ فکسڈ ٹیکس اسکیم کو بھی کمزور ردعمل ملا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صرف 1,750 ریٹیلرز نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا، جن میں سے صرف 220 نئے فائلرز ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ ریٹیل سیکٹر میں تقریباً 3.6 ملین ممکنہ نان فائلرز موجود ہیں، جبکہ اس اسکیم کے لیے 50 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
اس کمزور ردعمل نے حکومت کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا محصولات بڑھانے کی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ آئندہ ماہ کی وصولیاں یہ طے کریں گی کہ آیا ایف بی آر سالانہ ہدف کے قریب پہنچ پاتا ہے یا اس فرق میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔






