Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
Free E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
HomeBusinessترسیلات زر سستی ہوں تو معیشت کو ایک ارب ڈالر مل سکتے ہیں

ترسیلات زر سستی ہوں تو معیشت کو ایک ارب ڈالر مل سکتے ہیںBusiness

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-11-03
3 min read

وزیر مملکت اور پیوارا کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ترسیلات زر کی لاگت میں صرف 2 سے 3 فیصد کمی سے پاکستان کی معیشت میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

ترسیلات زر سستی ہوں تو معیشت کو ایک ارب ڈالر مل سکتے ہیں
Share:

وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ترسیلات زر کی لاگت میں صرف 2 سے 3 فیصد کمی سے پاکستان کی معیشت میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ رقم براہ راست عوام اور معیشت کو فائدہ پہنچائے گی۔

بلال بن ثاقب نے یہ بات ترسیلات زر اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق پیوارا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس معاملے پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے کام کر رہے ہیں، اور خلیجی ممالک سے ایک پائلٹ منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر اپنے خاندانوں کو بھیجتے ہیں، جو نہ صرف گھریلو اخراجات پورے کرتے ہیں بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی سہارا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترسیلات کی لاگت میں معمولی کمی بھی مجموعی طور پر بہت بڑی رقم بن جاتی ہے۔

اس وقت بیرون ملک سے رقم بھیجنے پر مختلف فیسوں اور شرح تبادلہ کے فرق کی صورت میں ایک خاص حصہ کٹ جاتا ہے۔ اگر یہ لاگت کم ہو جائے تو بھیجی گئی رقم کا زیادہ حصہ وصول کنندہ خاندان تک پہنچے گا، جس سے گھریلو آمدنی میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت میں خرچ بڑھے گا۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں اور نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کو اس مسئلے کے حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تیز تر، شفاف اور کم لاگت والے ڈیجیٹل راستے روایتی طریقوں کے مقابلے میں رقم کی منتقلی کو سستا بنا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ریگولیٹری نگرانی کے اندر کام کریں اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ لاگت میں کمی کے لیے صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں۔ بینکوں، رقوم کی منتقلی کرنے والی کمپنیوں اور ریگولیٹرز کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے، تاکہ نئے نظام محفوظ بھی ہوں اور عام آدمی کے لیے آسان بھی۔ خلیجی ممالک سے پائلٹ منصوبہ اسی ہم آہنگی کو جانچنے کا ایک قدم ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں سے پاکستان سب سے زیادہ ترسیلات آتی ہیں۔

اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کا فائدہ دوہرا ہوگا۔ ایک طرف خاندانوں کو زیادہ رقم ملے گی اور دوسری طرف زیادہ رقوم رسمی نظام کے ذریعے آئیں گی، جس سے معیشت کی شفافیت اور استحکام میں اضافہ ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں ورکنگ گروپ کی سفارشات اور پائلٹ منصوبے کی پیش رفت یہ طے کرے گی کہ ایک ارب ڈالر کا یہ امکان حقیقت میں کتنی جلدی بدلتا ہے۔

ترسیلات زر سستی ہوں تو معیشت کو ایک ارب ڈالر مل سکتے ہیں