لاہور جنرل اسپتال میں ڈاکٹر بن کر کام کرنے والا ایک شخص پکڑا گیا ہے۔ 24 نیوز کے مطابق ملزم تقریباً دو ماہ سے اسپتال میں ڈاکٹر کی وردی پہن کر اور گلے میں اسٹیتھو اسکوپ لگا کر موجود رہا اور اسپتال کے ایمرجنسی اور میڈیکل وارڈ میں آتا جاتا رہا۔
ملزم کی شناخت انس افضل ولد محمد افضل کے نام سے ہوئی ہے، جو پاکپتن کا رہائشی بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال کے عملے کو اس وقت شک ہوا جب وہ طبی سوالات کے جوابات نہ دے سکا اور اپنی دستاویزات پیش نہ کر سکا۔ عملے نے اس کی اسناد کی جانچ پڑتال کی، جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
لاہور جنرل اسپتال کے پرنسپل ڈاکٹر الفريد ظفر کے مطابق ملزم کو عملے کی جانب سے اسناد چیک کرنے کے بعد پکڑا گیا۔ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شفقت سلیم کا نام بھی اس واقعے کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔
پولیس نے ملزم کے خلاف متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقدمہ گلبرگ پولیس اسٹیشن میں درج ہوا ہے اور پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ وہ اسپتال میں کیسے کام کرتا رہا اور کیا اس نے مریضوں کا علاج بھی کیا۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملزم نے کسی مریض کو نقصان پہنچایا یا نہیں، اور نہ ہی اس کے خلاف کسی الزام یا عدالتی کارروائی کے نتیجے کا ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات سے ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اس دوران اس کی سرگرمیوں کا دائرہ کیا تھا۔
یہ واقعہ اسپتالوں میں شناخت اور اسناد کی جانچ کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔ اسپتال ایسے ادارے ہیں جہاں مریض اپنی صحت اور زندگی کا معاملہ عملے کے حوالے کرتے ہیں، اس لیے وہاں کام کرنے والے ہر شخص کی قابلیت کی تصدیق بنیادی ضرورت ہے۔ دو ماہ تک کسی شخص کا ڈاکٹر کے روپ میں وارڈ میں موجود رہنا اس نظام کی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے نزدیک ایسے واقعات میں صرف ملزم کی گرفتاری کافی نہیں ہوتی، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ داخلے، حاضری اور نگرانی کے مراحل میں کہاں کوتاہی ہوئی۔ اگر یہ کوتاہی دور نہ کی گئی تو مستقبل میں بھی ایسا واقعہ دہرایا جا سکتا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے لیے اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ وہ اپنے تصدیقی طریقہ کار کا جائزہ لے اور اسے مزید سخت بنائے، تاکہ کوئی شخص جعلی شناخت کے ساتھ مریضوں تک نہ پہنچ سکے۔ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کا اعتماد اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے جب انہیں یقین ہو کہ وارڈ میں موجود ہر ڈاکٹر واقعی مستند ہے۔
پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے پر یہ سامنے آئے گا کہ ملزم اسپتال تک کیسے پہنچا، اس نے کن وارڈز میں وقت گزارا اور کیا اس نے علاج کے معاملات میں مداخلت کی۔ اس وقت تک اسپتال میں اس واقعے پر تشویش پائی جاتی ہے اور عملے کی چوکسی ہی اس کا انکشاف کا سبب بنی۔








