Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
Free E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
HomeHealthدیہی علاقوں میں دل کا دورہ شہروں سے تین گنا زیادہ جان لیوا

دیہی علاقوں میں دل کا دورہ شہروں سے تین گنا زیادہ جان لیواHealth

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-11-06
3 min read

25 لاکھ سے زائد افراد کے اعداد و شمار پر مبنی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دیہی علاقوں میں دل کے دورے کے مریضوں کی بروقت طبی امداد تک رسائی شہروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

دیہی علاقوں میں دل کا دورہ شہروں سے تین گنا زیادہ جان لیوا
Share:

امریکہ میں کی جانے والی ایک بڑی تحقیق کے مطابق دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کے دل کا دورہ پڑنے پر اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کا خطرہ بڑے شہروں کے رہائشیوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنٹیفک سیشنز 2026 میں پیش کی جا رہی ہے جو 6 سے 9 نومبر تک شکاگو میں جاری ہیں۔

تحقیق میں 2003 سے 2023 کے دوران دل کے دورے سے انتقال کرنے والے 25 لاکھ سے زائد بالغ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے ونڈر ڈیٹا بیس میں موجود ڈیتھ سرٹیفکیٹس کا تجزیہ کیا جن میں مرنے والے کی عمر 20 سال یا اس سے زیادہ تھی۔ مجموعی طور پر 2,532,610 افراد کے اعداد و شمار شامل کیے گئے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

نتائج کے مطابق دیہی علاقوں کے رہائشیوں میں اسپتال پہنچنے سے پہلے موت کا امکان بڑے شہری علاقوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ رہا۔ اعداد و شمار کی زبان میں اسے 2.91 کے ایڈجسٹڈ آڈز ریشو سے ظاہر کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کے گھر پر انتقال کا امکان 89 فیصد زیادہ اور آؤٹ پیشنٹ یا ایمرجنسی کیئر میں موت کا امکان 58 فیصد زیادہ پایا گیا۔

تحقیق میں نسلی اور صنفی فرق بھی سامنے آیا۔ سیاہ فام افراد میں اسپتال پہنچنے سے پہلے موت کا امکان سفید فام افراد کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ اور آؤٹ پیشنٹ یا ایمرجنسی کیئر میں موت کا امکان 25 فیصد زیادہ رہا۔ مردوں میں خواتین کے مقابلے میں اسپتال پہنچنے سے پہلے موت کا امکان 39 فیصد زیادہ پایا گیا جبکہ 20 سے 44 سال کی عمر کے گروپ میں اسپتال پہنچنے سے پہلے موت کا نسبتا خطرہ سب سے زیادہ تھا۔

تحقیق کے سربراہ مصنف درشن شیوانے گوڑا ہیں جو بھارت کی ریاست کرناٹک میں حسن انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے میڈیکل طالب علم ہیں۔ ان کے مطابق دیہی علاقوں میں ایمرجنسی طبی سہولیات کی کمی، دل کے دورے کی بروقت پہچان میں تاخیر اور خصوصی کارڈیک مراکز تک رسائی کی دشواری اس فرق کی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔

محققین نے سفارش کی ہے کہ دیہی علاقوں میں ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے انفراسٹرکچر کو وسعت دی جائے، ایس ٹی ای ایم آئی کی تربیت بہتر بنائی جائے، علاقائی ایس ٹی ای ایم آئی مراکز تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے اور نوجوانوں و اقلیتی گروہوں میں دل کے دورے کی علامات کی پہچان بہتر بنائی جائے۔ تحقیق میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ دیہی اور ہسپانوی افراد میں ہاسپس کی سہولت کا استعمال کم رہا جو تسکین بخش نگہداشت تک رسائی کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی مطالعہ ہے، اس لیے صرف ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اعداد و شمار سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ دیہی رہائش ہی موت کی وجہ بنی۔ نتائج ابتدائی ہیں اور ابھی ہم مرتبہ جائزے سے نہیں گزرے، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار دیہی علاقوں میں دل کے دورے سے بچاؤ اور بروقت علاج کی سہولیات بہتر بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں دل کا دورہ شہروں سے تین گنا زیادہ جان لیوا