میرپور میں کمرشل عمارتوں کی تعمیر پر سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی پابندی کے باوجود شہر کے مختلف سیکٹرز میں تعمیرات جاری ہیں، سینئر قانون دان اصغر حسین ایڈووکیٹ نے مساوی اطلاق کا مطالبہ کر دیا۔
<strong>سابق صدر ینگ لائرز ایسوسی ایشن اصغر حسین ایڈووکیٹ کا مطالبہ — عدالتی فیصلے کا اطلاق ہر شہری پر برابر ہونا چاہیے</strong>
میرپور میں سابق صدر ینگ لائرز ایسوسی ایشن میرپور و سینئر قانون دان اصغر حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے میونسپل کارپوریشن میرپور اور ادارہ ترقیات کی حدود میں کمرشل عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
ان کے مطابق متعلقہ ادارے اس فیصلے پر عمل درآمد کروانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں، جبکہ شہر کے اندر اس وقت کئی ایسے سیکٹرز دیکھنے کو مل رہے ہیں جہاں کمرشل تعمیرات ہو رہی ہیں۔
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں، اس کے باوجود شہر میں جاری کمرشل تعمیرات باعث حیرت ہیں۔
اصغر حسین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ جس شہری کے افسران کے ساتھ تعلقات نہیں، اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ لاگو کر دیا جاتا ہے، اور جس شہری کے افسران کے ساتھ تعلقات ہیں، اس پر فیصلہ لاگو نہیں رہتا۔ افسران کو اس تقسیم کو ختم کرنا چاہیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق مساوی رکھنا چاہیے تاکہ شہریوں کے نزدیک سپریم کورٹ کا فیصلہ متضاد حیثیت اختیار نہ کر سکے۔