میرپور ڈویژن میں برسوں سے التوا کا شکار مقدمات کے لیے نئی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی ہے، جس سے ہزاروں سائلین کو جلد ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
میرپور ڈویژن میں زیر التوا مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان نے میرپور، بھمبر اور کوٹلی کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ تمام باقی ماندہ مقدمات دسمبر 2026 سے قبل قانون اور قواعد کے مطابق نمٹائے جائیں۔
کمشنر آفس کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران میرپور ڈویژن میں کمشنر کی نگرانی میں مجموعی طور پر 1776 ریونیو، تقسیم اراضی اور فوجداری مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ ان مقدمات کے تصفیے سے سائلین کو بروقت ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
کمشنر نے ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ زیر التوا مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مقدمے کی نوعیت اور دستیاب ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے، تاکہ کسی سائل کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور فیصلے مضبوط بنیادوں پر ہوں۔
ریونیو اور اراضی کے مقدمات عام شہریوں کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ زمین کی تقسیم، ملکیت اور ریونیو ریکارڈ سے متعلق تنازعات برسوں تک چلتے رہیں تو خاندانوں میں کشیدگی بڑھتی ہے اور ترقیاتی کام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان مقدمات کا بروقت فیصلہ انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔
فوجداری مقدمات میں تاخیر سے متاثرہ افراد کو انصاف کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ ملزمان کے لیے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے۔ مقدمات کے بروقت تصفیے سے نہ صرف انصاف کی فراہمی تیز ہوتی ہے بلکہ نظام پر عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔
کمشنر کی ہدایت کے بعد تینوں اضلاع کے افسران کو اپنے اپنے اضلاع میں زیر التوا مقدمات کا جائزہ لے کر ان کی فہرستیں مرتب کرنی ہوں گی اور دسمبر کی حتمی تاریخ سے قبل ان کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ ترجمان کے مطابق اس عمل کی نگرانی کمشنر آفس سے کی جائے گی، تاکہ ہدایت پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
شہریوں نے انتظامیہ کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ زیر التوا مقدمات کے تصفیے سے انہیں جلد انصاف ملے گا۔ اگر یہ ہدایت مؤثر طریقے سے نافذ ہوئی تو میرپور ڈویژن میں سائلین کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے اور برسوں سے التوا کا شکار مقدمات کا بوجھ کم ہو سکے گا۔