Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
Free E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
HomePakistanپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، سرحد کی بندش بڑی وجہ قرار

پاکستان میں ایل پی جی مہنگی، سرحد کی بندش بڑی وجہ قرارPakistan

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-10-27
3 min read

قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان ایران سرحد کی بندش ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجہ ہے، جبکہ دور دراز علاقوں میں گیس سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔

پاکستان میں ایل پی جی مہنگی، سرحد کی بندش بڑی وجہ قرار
Share:

اسلام آباد: قومی اسمبلی کو پیر کے روز بتایا گیا کہ پاکستان ایران سرحد کی بندش ملک میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرحد کی بندش ایل پی جی کی بلند قیمتوں کی ایک اہم وجہ ہے اور اب حکومت سمندری راستے سے ایندھن حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ توجہ دلاؤ نوٹس عالیہ کامران، شاہدہ بیگم اور نعیمہ کشور خان نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا۔ نوٹس میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بے مثال اضافے کی طرف وزیر کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی، جسے عوام کے لیے شدید تشویش کا معاملہ قرار دیا گیا۔ ارکان نے کہا کہ اضافے نے عام گھرانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

نوٹس کی محرک عالیہ کامران نے ایوان کو بتایا کہ ملک کے دور دراز اور شمالی علاقوں میں ایل پی جی 700 سے 800 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مقرر کردہ سرکاری قیمت 280 روپے فی کلو گرام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری نرخ اور بازار میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان یہ فرق عام صارفین کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے۔

ایل پی جی ان دور دراز علاقوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے جہاں پائپ گیس موجود نہیں۔ سردیوں میں اس کی کھپت بڑھ جاتی ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر دباؤ مزید بڑھتا ہے۔

نعیمہ کشور نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کیوں معطل کی ہے۔ اس پر وزیر نے جواب دیا کہ پاکستان کی ضرورت کا 50 سے 60 فیصد ایل پی جی ایران سے درآمد کیا جاتا تھا جبکہ باقی ضرورت قطر سے پوری کی جاتی تھی۔ ان کے مطابق امریکہ ایران جنگ کے باعث قطر سے ایل پی جی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے، جس نے مجموعی سپلائی کی صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

وزیر نے ایوان کو بتایا کہ حکومت پورے نظام کا جائزہ لے رہی ہے اور بیرون ملک سے گیس حاصل کرنے کے دیگر ذرائع کے حصول کے لیے ایک پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اوگرا کی مقرر کردہ 280 روپے فی کلو گرام کی سرکاری قیمت سے اتفاق کیا، تاہم یہ بھی تسلیم کیا کہ اضافی سپلائی کے دوران بھی گیس کہیں سرکاری نرخ پر فروخت ہوتی نظر نہیں آتی۔

بحث سے واضح ہوا کہ مسئلہ صرف سپلائی کا نہیں بلکہ قیمتوں کے نفاذ کا بھی ہے۔ ارکان نے سرکاری نرخ پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو ریلیف مل سکے۔