
ثبوت لاؤ ورنہ عدالت جاؤ: مریم نواز کا چوہدری سالک کو نوٹسPakistan
وزیراعلیٰ پنجاب نے اٹک میں خطاب کے دوران کہا کہ الزام لگانے والے ثبوت پیش کریں، ورنہ قانون کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک کو ہرجانے کا نوٹس بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر چوہدری سالک کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پیش کریں، ورنہ انہیں عدالت کا سامنا کرنا ہوگا۔
مریم نواز نے کہا کہ وفاقی وزیر الزامات نہ لگائیں بلکہ ثبوت سامنے لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جھوٹے الزامات کو ہرگز برداشت نہیں کریں گی اور اگر کرپشن کا ایک روپے کا بھی ثبوت ثابت ہو جائے تو وہ اللہ اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔
چوہدری سالک نے حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت پر کرپشن اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کرپشن کی شکایات روزانہ سننے کو ملتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسران کی تقرریاں میرٹ پر کی جاتی ہیں، سفارش پر نہیں۔
مریم نواز نے اپنے خطاب میں گجرات کے دورے کا بھی ذکر کیا، جہاں بارش کے دوران ان کی گاڑی پانی میں ڈوب گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اتنی ہی خراب تھی تو پھر وفاقی وزیر حکومت میں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا ہوا ہے اور غریبوں کے لیے لاکھوں مکانات بنائے جا رہے ہیں۔
یہ اعلان اسی دن سامنے آیا جب وزیراعلیٰ نے اٹک میں 127 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، جن میں 59 سڑکوں کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت عوام کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ حکمران اتحاد کے اندر اختلافات کی طرف اشارہ کرتا ہے، کیونکہ چوہدری سالک کی جماعت مسلم لیگ ق وفاقی حکومت کی اتحادی ہے۔ اس لیے وزیراعلیٰ کا سخت ردعمل سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا چوہدری سالک اپنے الزامات کے ثبوت پیش کرتے ہیں یا یہ معاملہ عدالت تک جاتا ہے۔ مریم نواز نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں پیچھے نہیں ہٹیں گی اور قانونی راستہ اختیار کریں گی۔
یہ خبر سیاسی بیان بازی سے آگے بڑھ کر ایک قانونی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کا اثر پنجاب اور وفاق کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ عوام کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ ترقیاتی فنڈز اور تقرریوں سے متعلق حقائق کیا ہیں، اور ان کا فیصلہ ثبوتوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف بیانات پر۔






