
چین میں پاکستانی کیڈٹس کی شاندار کارکردگی، چاندی کا تمغہPakistan
چین میں تیرہویں بین الاقوامی آرمی کیڈٹس ویک میں پاکستانی کیڈٹس نے شاندار کارکردگی دکھائی اور مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کر کے چاندی کا تمغہ جیت لیا۔

چین میں منعقدہ تیرہویں بین الاقوامی آرمی کیڈٹس ویک میں پاکستانی کیڈٹس نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ یہ مقابلے چین کے شہر نانجنگ میں پی ایل اے آرمی انجینئرنگ یونیورسٹی میں منعقد ہوئے، جہاں گیارہ ممالک کے کیڈٹس نے شرکت کی۔
پاکستان کی نمائندگی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ (سیمی) کے کیڈٹس نے کی، جنہوں نے حصہ لینے والی بین الاقوامی ٹیموں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ مجموعی طور پر پاکستان نے انتیس چینی اور بین الاقوامی ٹیموں میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔
پاکستانی ٹیم نے مقابلے کے کانسیپٹ اور پیپر کیٹیگری میں اپنا منصوبہ ‘باکسر ان مینڈ گراؤنڈ وہیکل’ پیش کیا، جو بغیر ڈرائیور کے زمین پر چلنے والی گاڑی سے متعلق ہے۔
یہ ایونٹ 2 سے 6 نومبر 2026 تک جاری رہا۔ اس میں گیارہ ممالک کے کیڈٹس کے علاوہ چین کی پندرہ ملٹری اکیڈمیوں کے کیڈٹس نے بھی شرکت کی۔ ایونٹ کا موضوع اہم علاقائی سلامتی کے خطرات سے نمٹنا اور بین الاقوامی فوجی سلامتی کے تعاون کو مزید گہرا کرنا تھا۔
رپورٹ میں اس کامیابی کو پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، تخلیقی صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کی عکاسی قرار دیا گیا ہے۔ گیارہ ممالک کی بین الاقوامی ٹیموں میں پہلی پوزیشن اور انتیس ٹیموں میں مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کرنا پاکستانی کیڈٹس کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔
مقابلے میں کل انتیس ٹیموں نے حصہ لیا، جن میں چین کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔ پاکستانی ٹیم ان تمام ٹیموں میں دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ بین الاقوامی ٹیموں کی فہرست میں اس کا پہلا نمبر رہا۔ یہ دونوں پوزیشنیں ایک ساتھ حاصل کرنا اس کامیابی کو مزید نمایاں بناتا ہے۔
چین کے شہر نانجنگ میں منعقدہ اس ایونٹ کی میزبانی پی ایل اے آرمی انجینئرنگ یونیورسٹی نے کی، اور اس کامیابی کی خبر 24 نیوز ایچ ڈی نے جمعے کے روز دی۔
ایونٹ کے موضوع میں اہم علاقائی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے اور بین الاقوامی فوجی سلامتی کے تعاون کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ یہی موضوع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس طرح کے بین الاقوامی مقابلوں کا مقصد صرف مقابلہ کرنا نہیں بلکہ مختلف ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا بھی ہے۔






