ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 9 ہزار 600 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 35 ہزار 636 روپے کا ہو گیا ہے۔ سونے کی قیمت میں یہ اضافہ گزشتہ روز ریکارڈ کیا گیا، جس نے ایک بار پھر خریداروں اور سرمایہ کاروں کی توجہ صرافہ بازار کی جانب مبذول کرا دی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 8 ہزار 230 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد 10 گرام سونا 3 لاکھ 73 ہزار 487 روپے کا ہو گیا ہے۔ 24 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت 3 لاکھ 65 ہزار 257 روپے سے بڑھ کر 3 لاکھ 73 ہزار 487 روپے ہو گئی ہے، جبکہ 22 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت بڑھ کر 3 لاکھ 42 ہزار 375 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آل سندھ صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 100 روپے اضافے کے بعد 5 ہزار 763 روپے ہو گئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی 85 روپے مہنگی ہو کر 4 ہزار 940 روپے کی ہو گئی ہے۔
عالمی بازار میں بھی سونے کی قیمت میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی منڈی میں فی اونس سونے کی قیمت 96 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 131 ڈالر ہو گئی ہے، جبکہ اس سے ایک روز قبل عالمی قیمت 4 ہزار 35 ڈالر تھی۔ ملکی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتیں عموماً عالمی منڈی کے رجحان اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر سے متاثر ہوتی ہیں، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر مقامی نرخوں پر بھی پڑتا ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس سے ایک روز قبل بھی سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ چار نومبر کو فی تولہ سونے کی قیمت میں 13 ہزار 900 روپے کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 26 ہزار 36 روپے کا ہو گیا تھا۔ اسی روز 10 گرام سونے کی قیمت میں 11 ہزار 917 روپے کا اضافہ ہوا تھا اور عالمی منڈی میں فی اونس سونا 139 ڈالر مہنگا ہو کر 4 ہزار 35 ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔
اس طرح سونے کی قیمت میں مسلسل تیزی کا رجحان جاری ہے، جس سے شادی بیاہ کی تیاریوں اور زیورات کی خریداری کرنے والے خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ صرافہ تاجروں کے مطابق مختلف شہروں اور دکانوں پر سونے کی قیمتوں میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، کیونکہ دکاندار بنوائی اور دیگر اخراجات الگ سے وصول کرتے ہیں۔ خریداروں کو چاہیے کہ وہ خریداری سے قبل متعلقہ دکان سے تازہ ترین نرخ ضرور معلوم کر لیں۔








