mirpurصدر نجیب نقی کا سدھنوتی کا پہلا دورہ احتجاج کی نذر، قافلہ گھنٹوں پھنسا رہاآزاد کشمیرsudhanoti
نومنتخب صدر ڈاکٹر محمد نجیب نقی کا آبائی ضلع سدھنوتی کا پہلا دورہ احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے باعث متاثر ہوا، قافلہ گھنٹوں کہوٹہ میں پھنسا رہا۔

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے نومنتخب صدر ڈاکٹر محمد نجیب نقی کا اپنے آبائی ضلع سدھنوتی کا پہلا دورہ ہفتے کے روز احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش کی نذر ہو گیا، جس کے باعث ان کا قافلہ کئی گھنٹے تک کہوٹہ میں پھنسا رہا۔
مقامی ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک دھڑے، جسے مقامی طور پر “امان گروپ” کہا جاتا ہے، نے صدر کے دورے کے خلاف صبح سویرے پلندری جانے والے راستوں پر کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ صدر کا قافلہ ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ میں کئی گھنٹے تک رکا رہا۔
مقامی ذرائع نے پہاڑی علاقوں سے فائرنگ کی اطلاعات بھی دیں، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ سڑکوں کی بندش ختم کرنے کے لیے بھاری پولیس نفری تعینات کی گئی۔ آزاد پتن پل کے قریب ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی جب مظاہرین سے تصادم کے دوران پولیس نے فائرنگ کی، تاہم اس واقعے کی بھی سرکاری سطح پر تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
سدھنوتی میں کوٹلی چوک پر نوجوانوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ مقامی ذرائع نے الزام لگایا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش میں پولیس نے آنسو گیس اور فائرنگ کا استعمال کیا۔
<h2>کہوٹہ میں استقبال</h2> راستے بند ہونے کے باعث صدر نقی کہوٹہ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے رہے، جہاں بعد ازاں ان کا استقبال کیا گیا اور رہائشیوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ان کی گاڑی کو پھولوں سے سجایا، جس کے بعد قافلہ دوبارہ روانہ ہوا۔
اسی روز حکومت نے پڑوسی ضلع کوٹلی میں سیاسی حمایت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، جہاں وزیراعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا ہولر، سہنسہ کے بدلی چوک اور گلپور سمیت کئی مقامات پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے استقبال کیا۔ حامیوں نے ڈھول بجائے، پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور وزیراعظم کے حق میں نعرے لگائے۔ بدلی چوک پر قانون ساز راجہ محمد آصف کی قیادت میں استقبالیہ دیا گیا۔ گیلانی بعد ازاں کوٹلی میں ایک جلسہ عام میں پہنچے، جہاں انہیں روایتی گھوڑا گاڑی میں پنڈال لے جایا گیا۔ اسپیکر طارق فاروق اور کئی وزرا و ارکان اسمبلی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
راولاکوٹ میں بھی طلبہ اتحاد کے زیر اہتمام احتجاج میں سیکڑوں طلبہ شریک ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاجی تحریک اب صرف سیاسی کارکنوں اور تاجروں تک محدود نہیں رہی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 4 اکتوبر کو “یوم سیاہ” منانے کا اعلان کیا تھا۔ مرکزی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے صدر کے دورے کے خلاف ہفتے کے احتجاج سے خود کو الگ کر لیا، جس سے تحریک کے اندر حکمت عملی پر اختلافات کا اشارہ ملتا ہے۔
متعلقہ خبریں
mirpur
mirpurچیف جسٹس آزاد کشمیر کی عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر افسران کو تنبیہ
تحریر: hammadkhaksar
mirpurوزیر کی ڈی ایچ کیو اسپتال میرپور میں مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کی ہدایت
تحریر: hammadkhaksarسب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
