
آزاد کشمیر: کالعدم کمیٹی سے مذاکرات نہیں ہو رہےAzad Kashmir
وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنے پہلے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور سولہویں ترمیم ایک ارتقائی عمل ہے۔

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے کشمیر ڈیجیٹل کو دیے گئے اپنے پہلے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ یہ انٹرویو یکم نومبر 2026 کو شائع ہوا، جس میں وزیراعظم نے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئینی ترامیم اور حکومت کے آئندہ لائحہ عمل پر اپنے موقف کی وضاحت کی۔
وزیراعظم نے سولہویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک ارتقائی عمل ہے، اور تیرہویں ترمیم میں دیے گئے اختیارات واپس نہیں لیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول، اس معاملے پر پھیلائی جانے والی باتیں درست نہیں ہیں، اور ترمیم کا مسودہ سامنے آنے کے بعد ہی اس پر حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ آزاد کشمیر کے آئینی یا انتظامی اسٹیٹس میں کوئی تبدیلی کی جا رہی ہے۔
افتخار گیلانی نے کہا کہ آزاد کشمیر کا کوئی اسٹیٹس تبدیل نہیں ہو رہا، نہ کسی کا ایسا کوئی ارادہ ہے اور نہ کوئی اس بارے میں سوچ رہا ہے۔ ان کے بقول، اس حوالے سے جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ صرف پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے سابق وزرائے اعظم راجہ فاروق حیدر خان اور سردار عتیق احمد خان کے حالیہ بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف سیاست میں رہنے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں نے گن پوائنٹ پر ایک ایڈیشنل سیشن جج کو اغوا کیا، اور اس کے بعد ایک ایف سی اہلکار کو بھی اغوا کیا گیا۔ یہ ان کا اپنا موقف ہے، جسے انہوں نے قانون کی حکمرانی کے حوالے سے تشویشناک قرار دیا۔ ان کے بقول، ایسے اقدامات سے عام شہریوں اور اداروں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
افتخار گیلانی نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ ریاست کی بہتری کے لیے دھرنا ختم کرے اور حکومت کو کام کرنے کا وقت دے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو جو ریلیف دیا، ایسا ریلیف تاریخ میں کبھی نہیں ملا، اس کے باوجود اعتماد کا فقدان کیوں ہے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ ان کے بقول، حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔
یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر میں آئینی ترامیم، حکومت کی کارکردگی اور سو روزہ اصلاحاتی منصوبے پر بحث جاری ہے۔ مختلف سیاسی رہنما حکومت کی کارکردگی پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عوامی فلاح اور خطے کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم کے تازہ بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اپنے موقف پر قائم ہے اور وہ مذاکرات یا اسٹیٹس کے حوالے سے پھیلنے والی خبروں کی تردید کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں قانون ساز اسمبلی کے اجلاس اور آئینی ترامیم کے مسودے پر مزید بحث متوقع ہے۔






