Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولپاکستانپی آئی اے کا پہلا بوئنگ 787 ڈریم لائنر اسلام آباد پہنچ گیا

پی آئی اے کا پہلا بوئنگ 787 ڈریم لائنر اسلام آباد پہنچ گیاپاکستان

hammadkhaksar
hammadkhaksar
پیر، 2 نومبر، 2026
4 منٹ
ہمیں فالو کریں:WhatsAppFacebook

پی آئی اے کا لیز پر حاصل کردہ پہلا بوئنگ 787 ڈریم لائنر لندن سے اسلام آباد پہنچ گیا ہے، جو پاکستان کی کسی بھی ایئرلائن کے بیڑے میں اس طیارے کی پہلی شمولیت ہے۔

پی آئی اے کا پہلا بوئنگ 787 ڈریم لائنر اسلام آباد پہنچ گیا
شیئر کریں:

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا پہلا بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ اتوار، یکم نومبر 2026 کو اسلام آباد پہنچ گیا۔ یہ طیارہ لندن سے پرواز پی کے 786 کے طور پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا، جہاں ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس کا استقبال کیا۔ پی آئی اے کے مطابق یہ پاکستان کی کسی بھی ایئرلائن کے بیڑے میں شامل ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا بوئنگ 787 ڈریم لائنر ہے۔

یہ طیارہ خریدا نہیں گیا بلکہ لیز پر حاصل کیا گیا ہے۔ پی آئی اے نے گزشتہ ماہ ناروے کی فضائی کمپنی نورس اٹلانٹک ایئر ویز کے ساتھ دو بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں کے لیے اے سی ایم آئی لیز معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت طیارے کے ساتھ عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس انتظام میں فراہم کرنے والی کمپنی عملے اور دیکھ بھال کی ذمہ دار رہتی ہے، جبکہ پی آئی اے اپنے فلائٹ نمبروں کے تحت پروازیں چلائے گی۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

بوئنگ 787 ایک طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا جڑواں انجن کا حامل وسیع طیارہ ہے، جو ایندھن کی بچت اور مسافروں کے آرام کے لیے جانا جاتا ہے۔ پی آئی اے کے مطابق اس میں جدید ٹیکنالوجی، ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹم اور کشادہ و آرام دہ کیبن کی سہولیات موجود ہیں، جن سے مسافروں کو بہتر سفری تجربہ ملنے کی توقع ہے۔

اس سے قبل پی آئی اے کے بیڑے میں بوئنگ 777، ایئربس اے 320 اور اے ٹی آر طیارے شامل تھے، اور ڈریم لائنر کی شمولیت کو بیڑے کو جدید بنانے اور بین الاقوامی نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایئرلائن کے مطابق نئے طیارے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان طویل فاصلے کی براہ راست پروازوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اس سے قبل جاری اعلان میں اسلام آباد اور لاہور سے لندن اور مانچسٹر کی پروازوں کا ذکر تھا، تاہم مکمل شیڈول کی تصدیق ضروری ہوگی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے گزشتہ ستمبر میں واضح کیا تھا کہ وہ پی آئی اے کے لیے کوئی طیارہ نہیں خرید رہی اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی سرکاری قرض یا ضمانت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد لیز معاہدے کو خریداری کے بڑے مالی بوجھ کے بغیر نئے طیارے شامل کرنے کا طریقہ قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ پی آئی اے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی مارکیٹ ہے، جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ ڈریم لائنر جیسے جدید طیارے کی شمولیت سے ایئرلائن کو اس روٹ پر گنجائش بڑھانے اور مسافروں کو بہتر سہولیات دینے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس کا اصل امتحان وقت کی پابندی، سروس کے معیار اور کرایوں میں ہوگا، جن پر مسافر سب سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

دوسرا ڈریم لائنر طیارہ بھی اسی معاہدے کے تحت آنا ہے، اور پہلی آمد کو ایئرلائن کی توسیع کے آغاز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر دونوں طیارے کامیابی سے آپریشن میں شامل ہو گئے تو یہ پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ میں ایک نیا باب ہوگا، کیونکہ اس سے قبل کسی پاکستانی ایئرلائن نے ڈریم لائنر طیارہ استعمال نہیں کیا تھا۔

پی آئی اے کا پہلا بوئنگ 787 ڈریم لائنر اسلام آباد پہنچ گیا