Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
Homeurسوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذہنی صحت — ایک خاموش المیہ

سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذہنی صحت — ایک خاموش المیہur

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-10-08
4 min read

آج کا نوجوان جس دنیا میں جی رہا ہے، وہ دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے: ایک وہ جو اس کے گرد ہے — گھر، محلہ، یونیورسٹی، بازار — اور دوسری وہ جو اس کی اسکرین پر ہے۔ یہ دوسری دنیا دن رات چمکتی ہے، شور مچاتی

سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذہنی صحت — ایک خاموش المیہ
Share:

سوشل میڈیا کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ انسان کو مسلسل ایک دوسرے سے موازنہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسکرین پر ہر کوئی کامیاب، خوشحال اور پرکشش نظر آتا ہے۔ کوئی بیرون ملک سفر کی تصویریں لگاتا ہے، کوئی نئی گاڑی، کوئی شاندار کامیابی۔ نوجوان اس مصنوعی پیمانے پر خود کو ناپتا ہے اور ہر بار خود کو کم تر پاتا ہے۔ یہ احساسِ کمتری، اضطراب اور مایوسی کا ایک مسلسل دباؤ بن جاتا ہے، جو کبھی ایک دم نہیں پھوٹتا بلکہ روز تھوڑا تھوڑا جمع ہوتا ہے۔

دوسری بڑی مشکل یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے توجہ کی مدت کو تہس نہس کر دیا ہے۔ مختصر ویڈیوز، لامحدود اسکرولنگ اور فوری ردعمل کی دنیا نے نوجوانوں کی صبر کی طاقت کم کر دی ہے۔ کتاب پڑھنا، گہرا سوچنا، کسی کام میں دل لگانا — یہ سب اب انہیں مشکل لگتا ہے، کیونکہ ان کا دماغ ہر چند سیکنڈ میں نئی تحریک مانگتا ہے۔ یہ صرف تفریح کا مسئلہ نہیں، یہ تعلیم اور مستقبل کا مسئلہ ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

اس کے باوجود ہمیں سوشل میڈیا کو مکمل طور پر برا قرار دینے کی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ یہی پلیٹ فارم وہ ہیں جہاں ہزاروں نوجوانوں نے کاروبار شروع کیے، ہنر سیکھے، اپنی آواز دنیا تک پہنچائی اور روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ مسئلہ آلے میں نہیں، مسئلہ اس کے بے قابو استعمال میں ہے۔ آگ بھی جلاتی ہے اور روشنی بھی دیتی ہے — فرق صرف استعمال کا ہے۔

سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ پہلا قدم شعور ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی نفسیات سمجھائیں — کہ جو اسکرین پر نظر آتا ہے وہ زندگی کا ایک منتخب شدہ، تراشیدہ حصہ ہوتا ہے، پوری حقیقت نہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت اور ڈیجیٹل تہذیب کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

دوسرا قدم خود نوجوانوں کو اٹھانا ہے۔ اسکرین کا وقت محدود کرنا، سونے سے پہلے موبائل سے دوری، اور حقیقی زندگی — دوست، خاندان، کھیل، مطالعہ — کو ترجیح دینا۔ یہ چھوٹے چھوٹے فیصلے ہیں جو ذہنی سکون کی بنیاد بنتے ہیں۔ اور اگر کوئی نوجوان مستقل بے چینی، اداسی یا مایوسی محسوس کرے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ مدد مانگنا کمزوری نہیں، بلکہ ہمت ہے۔

ہماری قوم کا مستقبل ان نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جو آج اسکرینوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اگر ہم نے ان کی ذہنی صحت کو سنجیدہ نہ لیا، تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو ٹیکنالوجی میں ماہر تو ہوگی، لیکن اندر سے ٹوٹی ہوئی۔ اور اگر ہم نے آج شعور، تربیت اور محبت سے ان کی رہنمائی کی، تو یہی نوجوان ڈیجیٹل دور کی سب سے مضبوط اور متوازن نسل ثابت ہوں گے۔

سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذہنی صحت — ایک خاموش المیہ