پاکستان نے دو ایل این جی کارگوز کے لیے بین الاقوامی سپلائرز سے بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 نومبر تک بڑھا دی ہے، تاکہ موسم سرما میں گیس کی متوقع قلت کو پورا کیا جا سکے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی سپلائرز اب 10 نومبر تک اپنی بولیاں جمع کرا سکتے ہیں، جب کہ اس سے قبل آخری تاریخ 6 نومبر مقرر کی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ موصول ہونے والی بولیوں کو بھی 10 نومبر ہی کو کھولا جائے گا۔
تاہم، دونوں ایل این جی کارگوز کی ترسیل کا شیڈول تبدیل نہیں ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ درآمدی گیس کی یہ کھیپ موسم سرما کے دوران گھریلو اور صنعتی صارفین کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔
پاکستان میں ہر سال سردیوں کے مہینوں میں گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جب گھریلو صارفین ہیٹنگ کے لیے زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں۔ اسی دوران مقامی گیس کے ذخائر سے پیداوار طلب کے مقابلے میں کم رہتی ہے، اسی لیے حکومت کو مائع قدرتی گیس درآمد کرنا پڑتی ہے۔
ایل این جی کی درآمد پاکستان کی توانائی کی فراہمی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ درآمدی گیس کو پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر کے صارفین تک پہنچایا جاتا ہے، اور سردیوں میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس وقت گیس کی کمی سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق، بولیوں کی تاریخ میں توسیع کا مقصد زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی سپلائرز کو ٹینڈر میں حصہ لینے کا موقع دینا ہے، تاکہ مسابقتی نرخوں پر گیس خریدی جا سکے۔ زیادہ بولیاں موصول ہونے سے حکومت کو بہتر قیمت پر معاہدہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
موسم سرما میں گیس کی قلت پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی سردیوں کے دوران گھریلو صارفین کو کم پریشر اور صنعتوں کو گیس کی بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حکومت ہر سال سردیوں سے قبل ایل این جی کے اضافی کارگوز کا بندوبست کرتی ہے تاکہ اس صورتحال سے بچا جا سکے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کم کرنے اور مقامی ذخائر کی تلاش اور پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تاہم، مختصر مدت میں ایل این جی کی درآمد ہی سردیوں کی طلب پوری کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
اب تمام نظریں 10 نومبر پر ہیں، جب بولیاں کھولی جائیں گی اور یہ واضح ہوگا کہ کون سے سپلائرز اور کس قیمت پر دونوں کارگوز فراہم کریں گے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس عمل سے موسم سرما کے لیے گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔








