ڈاکٹر کاشف کو گولیاں لگنے کے بعد شدید زخمی حالت میں طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور پولیس انہیں پکڑ نہ سکی۔
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق قتل کے محرکات ابھی تک واضح نہیں ہیں اور مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کی ہدایت کر دی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
اسپتال کے اندر ڈاکٹر پر حملہ ایک سنگین واقعہ ہے۔ اسپتال وہ جگہ ہے جہاں مریض علاج کے لیے آتے ہیں اور ڈاکٹر دن رات ان کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے میں اسپتال کے اندر فائرنگ نے طبی عملے کی حفاظت کے سوال کو ایک بار پھر سامنے لا دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد اسپتالوں میں سیکیورٹی کے انتظامات پر نئے سرے سے غور کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
رواں برس جولائی میں بھی کراچی میں ایک نوجوان ڈاکٹر کو ڈکیتی کے دوران گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر آکاش جنا اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے اور انہیں کلفٹن کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھی ڈاکٹروں نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ڈاکٹروں اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ڈاکٹر خوف کے بغیر اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کی خدمت کرنے والے ڈاکٹروں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس واقعے کے ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔








