Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولUrduپانی کی قلت: ہماری غفلت کا سب سے بڑا خمیازہ

پانی کی قلت: ہماری غفلت کا سب سے بڑا خمیازہUrdu

hammadkhaksar
hammadkhaksar
جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
4 منٹ
0 ویوز

کبھی غور کیا ہے کہ ہمارے گھروں میں پانی کس قدر بے پروائی سے بہایا جاتا ہے؟ برش کرتے وقت نل کھلا، برتن دھوتے وقت پانی مسلسل بہتا، اور گلی میں کھڑی ٹینکی سے پانی اوور فلو ہو کر ضائع ہو رہا ہے — اور ہمیں

پانی کی قلت: ہماری غفلت کا سب سے بڑا خمیازہ
شیئر کریں:

ہمارے ملک میں گرمیوں میں جب بجلی کی طرح پانی کی بھی لوڈشیڈنگ شروع ہوتی ہے، جب ٹینکر کا پانی خریدنا پڑتا ہے، تب ہمیں یاد آتا ہے کہ پانی کتنا قیمتی ہے۔ مگر سردیوں میں پانی کی فراوانی دیکھ کر ہم پھر وہی پرانی روش اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ عارضی سوچ ہمیں ایک ایسے مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے جہاں صاف پینے کا پانی نعمت سے کم نہیں ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ پانی کی قلت صرف حکومت یا محکموں کا مسئلہ نہیں؛ یہ ہر گھر، ہر فرد کا مسئلہ ہے۔ زمین کے نیچے پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ ہم کنووں اور ٹیوب ویلوں سے جس بے دردی سے پانی نکال رہے ہیں، زمین اتنا پانی واپس جذب نہیں کر پا رہی۔ ایک طرف ہم پانی ضائع کرتے ہیں، دوسری طرف ہماری آنے والی نسلوں کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھتے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

پانی بچانے کا کام کوئی بڑا منصوبہ نہیں مانگتا؛ یہ چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے فیصلوں سے شروع ہوتا ہے۔ گھر میں ٹوٹے ہوئے نل کی مرمت کروانا، برتن دھوتے وقت بیسن میں پانی بھر کر دھونا، گاڑی دھوتے وقت پائپ کی بجائے بالٹی کا استعمال، اور سب سے بڑھ کر بچوں کو پانی کی اہمیت سکھانا — یہ سب چھوٹی باتیں ہیں مگر ان کا اجتماعی اثر بہت بڑا ہے۔

ہمارے مذہب اور ثقافت میں بھی پانی کی قدر کی تعلیم موجود ہے۔ پانی ضائع کرنا ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وضو کے وقت بھی پانی کی کمی کا حکم ہے۔ پھر ہم کیوں اپنی روزمرہ زندگی میں اس تعلیم کو بھول جاتے ہیں؟

دفاتر، ہوٹلوں اور کارخانوں میں بھی پانی کے ضیاع کو روکنے کی ضرورت ہے۔ بہت سی جگہوں پر پانی کے میٹر ہی نہیں لگے، اور جہاں ہیں وہاں بھی نگرانی کمزور ہے۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام — جنہیں ہم بارش کے پانی کی کٹائی کہتے ہیں — ہمارے گھروں اور عمارتوں میں عام ہونے چاہئیں۔ یہ کوئی مہنگی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ ایک سادہ سا طریقہ ہے جس سے زمین کا پانی بھی بحال ہوتا ہے اور گھریلو ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔

ایک اور پہلو جو اکثر نظر انداز ہوتا ہے، وہ ہے آلودگی۔ ہمارے دریا اور نہریں کارخانوں کے فضلے اور گھریلو گندگی سے آلودہ ہو رہے ہیں۔ صاف پانی موجود بھی ہو تو آلودگی اسے پینے کے قابل نہیں رہنے دیتی۔ پانی بچانا اور پانی صاف رکھنا — یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم پانی کو ایک قیمتی امانت سمجھیں۔ آج اگر ہم نے پانی کی قدر نہ کی تو کل ہماری نسلیں اس کی قیمت چکائیں گی۔ چھوٹی سی شروعات آج سے کریں: نل بند کریں، ضیاع روکیں، اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ پانی زندگی ہے، اور زندگی کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

پانی کی قلت: ہماری غفلت کا سب سے بڑا خمیازہ