سموگ کا موسم: ہر سال آنے والی آفت اور ہماری ہر سال دہرائی جانے والی غفلتUrdu
اکتوبر کا مہینہ آتے ہی پنجاب کے شہروں، خصوصاً لاہور، پر ایک بھاری سرمئی پردہ تاننے لگتا ہے۔ سموگ — یہ لفظ اب ہر سال کی طرح خبروں میں، سوشل میڈیا پر اور گلی محلوں میں گردش کر رہا ہے۔ اسکولوں کی چھٹیاں،

سموگ کوئی قدرتی آفت نہیں، جیسے زلزلہ یا سیلاب۔ یہ انسان کے بنائے ہوئے ذرائع سے جنم لیتی ہے — گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والا زہر، کھیتوں میں فصلوں کی باقیات جلانا، اور تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والی گرد۔ یہ سب عوامل مل کر فضا کو ایسا زہریلا مرکب بنا دیتے ہیں جس میں سانس لینا تک دشوار ہو جاتا ہے۔ اور ہر سال ہم یہی سنتے ہیں کہ “اس بار سخت اقدامات ہوں گے”، مگر اگلے سال اکتوبر آتے ہی وہی دھند، وہی کھانسی، وہی بند اسکول۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ سموگ کا شکار سب سے پہلے وہی لوگ بنتے ہیں جو اس کے پیدا کرنے میں سب سے کم حصہ ڈالتے ہیں۔ مزدور جو سائیکل یا پیدل کام پر جاتا ہے، ٹھیلے والا جو سارا دن سڑک پر کھڑا رہتا ہے، اسکول جانے والے چھوٹے بچے، اور وہ بزرگ جو پہلے ہی سانس کی بیماریوں سے لڑ رہے ہیں — یہی لوگ زہریلی فضا کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔ جس کے پاس کار ہے وہ بند کھڑکیوں میں اے سی چلا کر بچ سکتا ہے، مگر عام آدمی کے پاس یہ آسائش کہاں؟
ہمارے شہروں کی منصوبہ بندی بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے۔ درخت کاٹ کر سڑکیں چوڑی کی جاتی ہیں، ہریالی کی جگہ کنکریٹ بچھائی جاتی ہے، اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں زرعی زمین نگلتی جا رہی ہیں۔ درخت وہ قدرتی فلٹر ہیں جو فضا کو صاف کرتے ہیں، مگر ہم انہیں ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ ایک شہر جس میں سانس لینے کے لیے سبز جگہیں ہی نہ ہوں، وہاں سموگ کا راج ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔
حل ناممکن نہیں، مگر اس کے لیے عارضی ردعمل کی بجائے مستقل حکمت عملی چاہیے۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر سال بھر پابندی، فیکٹریوں کے اخراج کی مسلسل نگرانی، فصلوں کی باقیات جلانے پر متبادل طریقے، اور شہروں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری — یہ سب وہ اقدامات ہیں جو ہر سال تجویز ہوتے ہیں اور ہر سال سرد خانے میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ مسئلہ علم کی کمی نہیں، عمل کی کمی ہے۔
شہریوں کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ مختصر فاصلوں کے لیے گاڑی کی بجائے پیدل یا سائیکل کا استعمال، گھر کے باہر ایک درخت لگانا، اور کچرا جلانے سے گریز — یہ چھوٹے اقدامات مل کر بڑا فرق ڈال سکتے ہیں۔ سموگ سے لڑنا صرف حکومت کا کام نہیں، یہ ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو اس فضا میں سانس لیتا ہے۔
اکتوبر ہر سال آئے گا، مگر ہر سال سموگ کا آنا ضروری نہیں۔ فیصلہ ہمارا ہے — ہم اسے معمول سمجھ کر جیتے رہیں، یا اس بار واقعی کچھ بدلنے کا عزم کریں۔ صاف فضا کوئی عیاشی نہیں، یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
