Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولآزاد کشمیرneelumوادی نیلم میں جیپ کھائی میں گر گئی، 4 بچے جاں بحق

وادی نیلم میں جیپ کھائی میں گر گئی، 4 بچے جاں بحقآزاد کشمیرneelum

hammadkhaksar
hammadkhaksar
اتوار، 25 اکتوبر، 2026
4 منٹ
0 ویوز

وادی نیلم کے علاقے نگدر میں اسکول جانے والی جیپ کھائی میں گرنے سے چار بچے جاں بحق اور چار افراد زخمی ہو گئے۔ حادثے کا شکار تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

وادی نیلم میں جیپ کھائی میں گر گئی، 4 بچے جاں بحق
شیئر کریں:

وادی نیلم میں ہفتہ کے روز ایک افسوس ناک ٹریفک حادثے میں چار بچے جاں بحق اور چار افراد زخمی ہو گئے۔ این این آئی کے مطابق یہ حادثہ وادی نیلم کے علاقے نگدر میں پیش آیا، جہاں اسکول جانے والی ایک جیپ گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد اور پولیس موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جیپ گھوڑے نکے کے مقام پر موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو گئی اور سڑک سے تقریباً سو فٹ نیچے گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال آٹھمقام منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

جاں بحق ہونے والے بچوں میں بارہ سالہ حسنین ولد ظہور، دس سالہ تیفور ولد مشکور، سولہ سالہ علین دختر مشکور اور دو سالہ زرید ولد ظہور شامل ہیں۔ حادثے میں زخمی ہونے والوں میں راشدہ بی بی زوجہ ظہور، پچاس سالہ مشکور ولد ظفر اللہ، نو سالہ عبداللہ ولد مشکور اور بارہ سالہ ایمن دختر ظہور شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، جس کے باعث یہ سانحہ پورے علاقے کے لیے گہرا صدمہ بن گیا ہے۔

وادی نیلم آزاد کشمیر کا ایک پہاڑی اور دشوار گزار علاقہ ہے، جہاں سڑکیں تنگ اور موڑ خطرناک ہوتے ہیں۔ اس طرح کے علاقوں میں سفر کے دوران معمولی سی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، اور اسکول جانے والے بچوں کی گاڑیوں میں احتیاط کی ضرورت اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔

پہاڑی علاقوں میں ڈرائیوروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ گاڑی کی رفتار کو قابو میں رکھیں، موڑ پر خصوصی احتیاط کریں اور گاڑی کی تکنیکی حالت کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔ پرانی یا خراب گاڑیوں کا پہاڑی راستوں پر چلنا خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

حادثے کے بعد مقامی افراد نے جس جذبے سے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، وہ قابل تحسین ہے۔ دور دراز پہاڑی علاقوں میں اکثر اوقات مقامی لوگ ہی سب سے پہلے جائے حادثہ پر پہنچتے ہیں اور زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں مدد کرتے ہیں۔

اس سانحے نے ایک بار پھر پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ سڑکوں کی مناسب دیکھ بھال، خطرناک موڑوں پر حفاظتی دیواریں اور ڈرائیوروں کی تربیت ایسے اقدامات ہیں جو مستقبل میں اس طرح کے حادثات کو کم کر سکتے ہیں۔ اسکولوں کی انتظامیہ اور والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ کا انتخاب کریں اور گاڑیوں کی حالت پر نظر رکھیں۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی موت نے ان کے خاندان اور پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ ایک ہی خاندان کے چار بچوں کا ایک ساتھ چلے جانا ایسا صدمہ ہے جس کا کوئی مداوا نہیں۔ اس موقع پر یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بچوں کے درجات بلند کرے، زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے اور متاثرہ خاندان کو یہ ناقابل برداشت صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں