گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئرلائنز کے لیے مزید سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، اور اب وہاں ہنگامی لینڈنگ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ کے فعال ہونے کے بعد ایئرلائنز کو مزید سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ ہنگامی لینڈنگ کی سہولت کے ساتھ ساتھ ایئرپورٹ پر 38 ہزار لیٹر ہوائی ایندھن ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔
تاہم گوادر ایئرپورٹ پر ابھی طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کی سہولت موجود نہیں ہے۔ اگر کسی طیارے کو مرمت کی ضرورت ہو تو وہ ایندھن بھرنے کے بعد کراچی روانہ ہوگا۔
پاکستان کے نئے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح 20 دسمبر 2024 کو وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے چینی ہم منصب لی چیانگ نے کیا تھا۔
ایئرپورٹ 246 ملین ڈالر کی لاگت سے چینی معاونت سے تعمیر کیا گیا ہے اور یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ہے۔
ایئرپورٹ بلوچستان کے شہر گوادر میں واقع ہے، 4300 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، اور اس کا رن وے 3658 میٹر طویل ہے جسے پاکستان کا سب سے طویل رن وے قرار دیا گیا ہے۔ اس رن وے پر بوئنگ 777 اور ایئربس اے 380 جیسے بڑے طیارے اتر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پہلی کمرشل پرواز 20 جنوری 2025 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی کراچی سے گوادر کے لیے تھی، جبکہ پہلی بین الاقوامی پرواز 10 جنوری 2025 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی مسقط، عمان سے آئی تھی۔
گوادر ایئرپورٹ کو بلوچستان اور ملک کی معاشی ترقی کے لیے اہم منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ ہنگامی لینڈنگ اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولتوں سے ایئرلائنز کو گوادر کے لیے پروازیں چلانے میں آسانی ہوگی۔
ایئرپورٹ پر سہولتوں میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مرمت اور دیکھ بھال کی سہولت ابھی دستیاب نہیں، لیکن حکام کے مطابق مستقبل میں مزید سہولتیں فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔
گوادر بندرگاہ اور ایئرپورٹ مل کر اس علاقے کو تجارتی اور سفری سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی روزگار اور کاروبار میں بھی بہتری کی امید ظاہر کی جاتی ہے۔
مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے، جب ایئرپورٹ پر نئی سہولتوں کے بارے میں مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔








