
کشمیر میں سیاحوں کی 241 شکایات، 53 لاکھ کے جرمانے اور ریفنڈکشمیر
جموں و کشمیر ٹورازم انفورسمنٹ کو نو ماہ میں 241 شکایات موصول ہوئیں؛ 16.95 لاکھ جرمانہ اور 36.43 لاکھ روپے کے ریفنڈ کے ساتھ 140 شکایات نمٹا دی گئیں۔

سرینگر: جموں و کشمیر ٹورازم انفورسمنٹ نے ہفتے کے روز بتایا کہ رواں سال یکم جنوری سے یکم اکتوبر کے دوران سیاحوں کی 241 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 140 نمٹا دی گئیں جبکہ 101 تاحال زیر التواء ہیں۔
محکمے کے اشتراک کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں خلاف ورزی کرنے والے سروس فراہم کنندگان پر 16 لاکھ 95 ہزار 700 روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ متاثرہ سیاحوں کو 36 لاکھ 43 ہزار 440 روپے کے ریفنڈ کی سہولت فراہم کی گئی۔
اسی عرصے میں جموں و کشمیر میں 15 لاکھ 45 ہزار 347 ملکی سیاح آئے جبکہ 16 ہزار 20 غیر ملکی سیاحوں نے وادی کا دورہ کیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ ٹورازم انفورسمنٹ ایس ڈی چودھری نے کہا کہ شکایات کی تعداد مجموعی سیاحوں کے تناسب کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ سروس فراہم کنندگان اور سیاحوں دونوں سے رابطے میں ہے تاکہ مہمان نوازی میں خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے اور سیاحوں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے حال ہی میں ایک آؤٹ ریچ پروگرام بھی منعقد کیا گیا، جس میں متعلقہ فریقین سے آراء لی گئیں اور مناسب طرز عمل سے متعلق آگاہی دی گئی۔
“اس پروگرام کا مقصد تمام سروس فراہم کنندگان اور سیاحوں سے بات چیت کرنا ہے، کیونکہ کچھ لوگوں میں مہمان نوازی کی بنیادی سمجھ کی کمی ہے۔ ہم ان کی آراء لینا چاہتے ہیں تاکہ بہتری لا سکیں اور ان کے کرنے اور نہ کرنے کے کام شیئر کر سکیں،” چودھری نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی آمد حوصلہ افزا رہی ہے اور وقفے وقفے سے درپیش چیلنجوں کے باوجود اس میں مزید بہتری کی توقع ہے۔ “الحمدللہ، سیاحوں کی آمد بہت اچھی رہی ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں بہتری آتی رہے گی،” انہوں نے کہا۔
چودھری نے کہا کہ ہر شکایت کو قانونی کارروائی کے ذریعے کم سے کم وقت میں سیاحوں کی اطمینان کے ساتھ حل کیا جاتا ہے۔ “شکایات آتی رہتی ہیں، لیکن اگر ہم سیاحت کے تناسب اور شکایات کے تناسب کو دیکھیں تو یہ ایک فیصد بھی نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔
واضح رہے کہ جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی سزا ہے جبکہ ریفنڈ سیاح کو واپس کی گئی رقم ہے، اس لیے دونوں کو ملا کر “وصولی” قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کشمیر میں سیاحوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ سروس کے معیار کو بہتر بنانا انتظامیہ کے لیے ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے۔
متعلقہ خبریں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
