Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولمیرپورmirpurمیرپور: ریاض انقلابی کی یاد میں فل کورٹ تعزیتی ریفرنس

میرپور: ریاض انقلابی کی یاد میں فل کورٹ تعزیتی ریفرنسمیرپورmirpur

hammadkhaksar
hammadkhaksar
بدھ، 21 اکتوبر، 2026
3 منٹ
0 ویوز

سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے سینئر قانون دان مرحوم ریاض انقلابی ایڈووکیٹ کی چھ دہائیوں سے زائد پر محیط وکالت اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ چیف جسٹس سعید اکرم راجہ کی زیر صدارت فل کورٹ تعزیتی ریفرنس میں سینئر ججز، ایڈووکیٹ جنرل اور وکلا رہنماؤں نے شرکت کی۔

میرپور: ریاض انقلابی کی یاد میں فل کورٹ تعزیتی ریفرنس
شیئر کریں:

میرپور: چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس سعید اکرم راجہ کی زیر صدارت سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں سینئر قانون دان مرحوم ریاض انقلابی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ، سیاسی اور عوامی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے فل کورٹ تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ یہ ریفرنس عدلیہ کی جانب سے مرحوم کی طویل قانونی اور عوامی جدوجہد کے اعتراف میں منعقد کیا گیا۔

فل کورٹ تعزیتی ریفرنس میں سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان اور جج سپریم کورٹ جسٹس خالد یوسف چوہدری نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر محمد ندیم خان، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن فیاض حیدر نوابی، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور بابر علی خان ایڈووکیٹ، چیئرمین کوآرڈینیشن کمیٹی بار کونسل سردار حلیم خان ایڈووکیٹ، مرحوم کے برادرِ حقیقی عبدالغفار انقلابی، وکلا اور صحافیوں سمیت متعدد شخصیات موجود تھیں۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

چیف جسٹس جسٹس سعید اکرم راجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ریاض انقلابی ایڈووکیٹ ایک ملنسار، باوقار اور اصول پسند قانون دان تھے جنہوں نے اپنی زندگی شعبہ وکالت، انصاف کی فراہمی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کے لیے وقف کئے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ بنچ اور بار لازم و ملزوم ہیں اور انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ 2019ء میں مرحوم سے ان کا تعارف ہوا اور عدالت میں ان کی باوقار شخصیت، سحر انگیز گفتگو اور حقائق پر مبنی مدلل دلائل ہمیشہ قابلِ تحسین پائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینئر قانون دان اپنے علم و تجربے کے ذریعے عدالتی نظام کو مضبوط بناتے اور نوجوان وکلا کی رہنمائی کرتے ہیں، جبکہ مرحوم نے قانون کے پیشے کو عوامی خدمت اور انصاف کے حصول کا مؤثر وسیلہ بنایا۔

ایڈووکیٹ جنرل محمد ندیم خان نے کہا کہ مرحوم ریاض انقلابی ایڈووکیٹ ایک قومی رہنما، کم گو، صاحبِ بصیرت اور مدلل گفتگو کرنے والے قانون دان تھے۔ ان کے دلائل حقائق پر مبنی ہوتے تھے اور وہ نوجوان وکلا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم نے تحریکِ آزادی کشمیر اور 1981ء کی عوامی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن فیاض حیدر نوابی نے کہا کہ مرحوم چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک شعبہ وکالت سے وابستہ رہے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور منگلا ڈیم کے متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مرحوم کی جدوجہد کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور بابر علی خان ایڈووکیٹ نے تعزیتی ریفرنس کے انعقاد پر چیف جسٹس اور ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بہترین قانون دان، متحرک سیاسی کارکن اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار انسان تھے، اور بنیادی حقوق کے تحفظ، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی گئی۔ چیف جسٹس نے مرحوم کے اہلِخانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں