
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: لاہور ون ڈے میں فائنل کی دوڑSports
میزبان ٹیم دو فتوحات کے ساتھ ٹیبل پر سرفہرست ہے، جبکہ انگلینڈ کو فائنل کی دوڑ میں رہنے کے لیے لاہور میں جیت درکار ہے۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آج پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پاکستان ون ڈے ٹرائی سیریز کا چوتھا میچ کھیلا جا رہا ہے، جس میں میزبان ٹیم کی نظریں پوائنٹس ٹیبل پر اپنی برتری مستحکم کرنے اور فائنل کے قریب پہنچنے پر مرکوز ہیں۔
پاکستان نے اب تک دونوں میچز جیتے ہیں اور چار پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف 87 رنز کی واضح فتح نے ٹیم کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب انگلینڈ کے لیے یہ مقابلہ بقا کی جنگ بن چکا ہے۔ مہمان ٹیم اب تک کوئی میچ نہیں جیت سکی؛ اسے پاکستان کے ہاتھوں شکست کے ساتھ سری لنکا کے خلاف بھی ناکامی ہوئی، جہاں 429 رنز کا بڑا مجموعہ بنانے کے باوجود وہ میچ گنوا بیٹھی۔ لاہور میں ایک اور شکست اس کے فائنل تک پہنچنے کے امکانات کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
میچ سے قبل پریس کانفرنس میں کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ٹیم کی کارکردگی اب تک مضبوط رہی ہے اور وہ مخالف ٹیم کے مجموعے کی فکر کرنے کے بجائے اپنے منصوبوں پر توجہ رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکٹیں حاصل کرنا ہی اصل اہمیت رکھتا ہے۔
شاہین نے اوپنر صائم ایوب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہر کھلاڑی کے کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، اور صائم نہ صرف اہم اوپنر بلکہ شاندار فیلڈر اور کارآمد بولنگ آپشن بھی ہیں۔ انہوں نے فخر زمان کو بھی اسکواڈ کا بنیادی کھلاڑی قرار دیا۔
پاکستان کی بیٹنگ میں بابر اعظم مڈل آرڈر کو استحکام دیتے ہیں، جبکہ فخر اور صائم اوپر سے جارحانہ آغاز فراہم کرتے ہیں۔ حسن نواز نے انگلینڈ کے خلاف گزشتہ میچ میں 79 رنز بنائے تھے، جبکہ عرفات منہاس نے چھ وکٹیں لے کر مہمان بیٹنگ کو بے بس کر دیا تھا۔ شاداب خان کے تجربے اور شاہین، نسیم شاہ اور حارث رؤف کی رفتار کے ساتھ پاکستان کا بولنگ حملہ ہر مرحلے میں دباؤ ڈال سکتا ہے۔
انگلینڈ کی امیدیں بڑی حد تک کپتان ہیری بروک سے وابستہ ہیں، جنہوں نے سری لنکا کے خلاف ڈبل سنچری بنائی تھی۔ جو روٹ، بین ڈکٹ اور ٹام بینٹن بھی بیٹنگ میں گہرائی دیتے ہیں؛ بینٹن نے پاکستان کے خلاف گزشتہ میچ میں 57 رنز بنائے تھے۔ تاہم سری لنکا کے خلاف 430 رنز کا دفاع نہ کر پانا انگلینڈ کی بولنگ کی کمزوری ظاہر کرتا ہے، اور عادل رشید، گس اٹکنسن اور جیمی اوورٹن پر پاکستان کی گہری بیٹنگ روکنے کی ذمہ داری ہوگی۔
قذافی اسٹیڈیم کی پچ روایتی طور پر بیٹنگ کے لیے سازگار ہے، جہاں پہلی اننگز کا اوسط اسکور 285 اور دوسری کا 267 رہا ہے۔ نئی گیند سے فاسٹ بولرز کو کچھ مدد مل سکتی ہے، لیکن پچ عام طور پر میچ گزرنے کے ساتھ بیٹنگ کے لیے آسان ہو جاتی ہے، اس لیے ایک اور بڑے اسکور والا مقابلہ متوقع ہے۔
کاغذ پر پاکستان ناقابل شکست ریکارڈ، مضبوط بولنگ اور ہوم کنڈیشنز کی وجہ سے فیورٹ ہے، لیکن انگلینڈ کی بیٹنگ کسی بھی وقت میچ کا رخ بدل سکتی ہے۔ اگر بروک، روٹ اور بینٹن پاکستان کے اسپن حملے کا مقابلہ کر گئے تو انگلینڈ اپنی مہم زندہ رکھنے کے لیے درکار پہلی فتح حاصل کر سکتا ہے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں


