
وزیراعظم کا پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرنے پر مذاکرات کی نئی پیشکشپاکستان
وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیاسی مذاکرات کی نئی پیشکش کی ہے، ساتھ ہی خبردار کیا کہ احتجاج ملکی معیشت اور برآمدات کو متاثر کرے گا۔

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی ایک اور پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف اپنا لانگ مارچ ختم کر دے تو حکومت سیاسی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دھرنوں اور لانگ مارچوں کی سیاست سے سب سے پہلے ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے۔
وزیراعظم کشمیر چوک انڈرپاس کی سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو دھرنوں کی سیاست چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں دو روز تک مذاکرات ہوئے جن سے امید پیدا ہوئی تھی کہ تصادم کی سیاست ختم ہو جائے گی، تاہم بات چیت ناکام رہی۔
وزیراعظم کے مطابق پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چار اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا جب مذاکرات ٹوٹ گئے۔ مارچ کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق قافلہ کوہاٹ پہنچ چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا: "میں اب بھی کہوں گا کہ ہوش کے ناخن لیں، لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، پھر ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔"
وزیراعظم نے معاشی اثرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست برآمدات، درآمدات اور مینوفیکچرنگ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت نے اڑھائی برس کی محنت اور ٹیم ورک سے معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھایا اور میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر میں ملک کی آئی ٹی برآمدات، ترسیلاتِ زر اور صنعتی پیداوار میں بہتری آئی، اور ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسی تقریب میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی پی ٹی آئی کے احتجاج ختم کرنے سے مشروط ہے اور حکومت کے پاس سیاسی اور آئینی آپشنز موجود ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ بعض حکام کا خیال ہے کہ ریاست کو اب سختی دکھانی چاہیے۔
تقریب میں زیرِ بحث منصوبے کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ بریفنگ کے مطابق کشمیر چوک انڈرپاس کی پی سی ون لاگت ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے تھی جبکہ ٹھیکہ ایک ارب چالیس کروڑ روپے میں دیا گیا ہے۔ منصوبے میں چار سلپ روڈز شامل ہوں گی اور متعلقہ چوراہے سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ سات ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں۔ وزیراعظم نے منصوبہ ایک ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا۔
الگ سے ایک تقریب میں وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے نومنتخب چار ارکان — چوہدری لطیف اکبر، مشتاق منہاس، چوہدری سعید اور چوہدری منظور — سے حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے اور وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
متعلقہ خبریں



پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومت اپوزیشن مذاکرات کا دوسرا دور بھی بے نتیجہ
تحریر: hammadkhaksarسب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
