
سعودی عرب اور حوثیوں میں حملوں کا تبادلہ، ریاض ہائی الرٹ پردنیا
سعودی زیرقیادت اتحاد اور یمن کے حوثیوں کے درمیان اتوار کو بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ریاض میں اہم عمارتوں کو دور سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ اسکولوں میں آن لائن تعلیم بڑھا دی گئی۔

ریاض کے مشہور کنگڈم سینٹر فلک بوس عمارت نے دفتری کرایہ داروں کو اگلے احکامات تک لازمی طور پر دور سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکم کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی تاہم یہ دارالحکومت کے گرد دو ڈرون مار گرائے جانے اور ایک سیکیورٹی الرٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق نجران کے قریب یمنی سرحد پر ہیلی کاپٹر کے حادثے میں دو پائلٹ ہلاک ہو گئے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا، جبکہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کی سبا نیوز ایجنسی کے مطابق یمن کے صعدہ گورنری میں مبینہ سعودی فضائی حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ دی نیوز کے مطابق حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے دھمار اور تعز صوبوں میں شہری آبادیوں پر حملوں کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
ہفتے کو سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ریاض، مشرقی صوبے اور جنوبی علاقوں میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران چار ڈرون مار گرائے۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ اگر سعودی قیادت نے درخواست کی تو مصر سعودی عرب کے تحفظ کے لیے کوئی بھی اقدام کرنے کو تیار ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مصر علاقائی جنگوں میں مداخلت نہیں چاہتا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تنازعے کے سیاسی حل کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی، جسے یمن کے وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران اس جنگ میں فریق ہے، ثالث نہیں۔
سعودی وزارت تعلیم نے ریاض اور درعیہ میں آن لائن تعلیم کی مدت بڑھا دی ہے، جبکہ کئی غیر ملکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو سعودی ہوائی اڈوں سے گریز کرنے یا سفر ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یاد رہے کہ یمن کا تنازعہ برسوں کے نسبتاً سکون کے بعد جولائی میں دوبارہ بھڑک اٹھا تھا، جس کے بعد سے سعودی عرب کو تیل تنصیبات، ہوائی اڈوں اور ٹرانزٹ مراکز پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں


