Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
Free E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
HomeHealthکانگو میں ایبولا سے اموات 5 ہزار سے تجاوز کر گئیں

کانگو میں ایبولا سے اموات 5 ہزار سے تجاوز کر گئیںHealth

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-11-02
3 min read

کانگو میں ایبولا کی وبا سے 5,026 اموات ہو چکی ہیں اور 10,351 مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جس سے یہ ملک کی تاریخ کی سب سے مہلک وبا بن گئی ہے۔

کانگو میں ایبولا سے اموات 5 ہزار سے تجاوز کر گئیں
Share:

جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا سے ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے یہ وبا ملک کی تاریخ کی سب سے مہلک وبا بن گئی ہے۔ صحت کی وزارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک 10,351 مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 5,026 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اس وبا کی شرح اموات 48.6 فیصد ہے، یعنی متاثرہ افراد میں سے تقریباً ہر دوسرا شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ صحت حکام کے مطابق 2,788 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں، لیکن وبا پر قابو پانا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

یہ وبا مئی میں شروع ہوئی تھی اور اگست میں یہ کانگو کی تاریخ کی سب سے مہلک وبا بن گئی۔ یہ ملک میں ایبولا کی سترہویں وبا ہے اور دنیا بھر میں اب تک کی دوسری بڑی وبا ہے۔ اس سے بڑی صرف مغربی افریقہ کی 2014 سے 2016 کی وبا تھی۔

وبا کا مرکز اور پھیلاؤ

وبا کا مرکز ملک کے شمال مشرق میں واقع صوبہ ایٹوری ہے، جو ایک تنازعات سے متاثرہ علاقہ ہے۔ اس وجہ سے صحت کی ٹیموں کے لیے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا اور وبا پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔ ملک کے 26 صوبوں میں سے آٹھ صوبے اب اس وبا سے متاثر ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وبا کے خاتمے کے لیے اقدامات بڑھانا، متاثرہ علاقوں تک رسائی بہتر بنانا اور عوام میں آگاہی پھیلانا ضروری ہے۔

اس وبا کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کا سبب بننے والا وائرس بونڈی بگیو نامی قسم ہے، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔ صحت کارکنان مریضوں کا علاج ان کی علامات کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔

پڑوسی ممالک میں کیسز

وبا کانگو کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل چکی ہے۔ کینیا میں نو مصدقہ کیسز اور دو اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ یوگنڈا میں وبا کے آغاز کے فوراً بعد بیس کیسز اور دو اموات سامنے آئیں، لیکن اگست کے بعد سے وہاں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ نائیجیریا میں ہفتے کے روز دو مشتبہ کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے۔

ایبولا ایک نایاب لیکن مہلک بیماری ہے جو وائرس سے پھیلتی ہے۔ اس کی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں، جن میں تیز بخار، سر درد، شدید تھکاوٹ، پٹھوں اور جوڑوں میں درد، گلے میں خراش، بھوک نہ لگنا اور کپکپی شامل ہیں۔ بیماری بڑھنے پر قے اور اسہال ہو سکتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ جسمانی رطوبتوں کے رابطے سے منتقل ہوتا ہے۔

وبا سے نمٹنے کی کوششوں کو تشدد نے بھی متاثر کیا ہے۔ رواں ہفتے ایک نرس کو ایبولا کے ایک الرٹ پر جواب دیتے ہوئے قتل کر دیا گیا، جبکہ گزشتہ ماہ ایک سیاستدان کو بچاؤ کے اقدامات کی تشہیر کرنے پر مارا پیٹا گیا تھا جس سے اس کی موت ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وبا پہلے کی وباؤں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جانیں لے رہی ہے، اور جب تک متاثرہ علاقوں تک مکمل رسائی اور عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوتا، اس کے خاتمے کا راستہ مشکل نظر آتا ہے۔

کانگو میں ایبولا سے اموات 5 ہزار سے تجاوز کر گئیں