
اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ، ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کی جانچ مکملHealth
اسلام آباد میں قومی ہیپاٹائٹس سی خاتمہ پروگرام کے تحت ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ مکمل کر لی گئی ہے۔ مہم شہر کی 12 یونین کونسلوں میں دو مرحلوں میں چلائی گئی۔

اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے قومی پروگرام کے تحت ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ مہم وفاقی وزارت صحت نے شروع کی تھی اور اسے نیشنل ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے عملی جامہ پہنایا۔
مہم اسلام آباد کی 12 یونین کونسلوں میں چلائی گئی اور اسے دو مرحلوں میں مکمل کیا گیا۔ پہلا مرحلہ 19 سے 24 اگست تک جاری رہا جبکہ دوسرا مرحلہ 25 اگست سے 7 ستمبر تک چلایا گیا۔
ہیپاٹائٹس سی جگر کی ایک سنگین بیماری ہے جو اکثر بغیر کسی واضح علامت کے بڑھتی رہتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ وائرس عام طور پر متاثرہ خون کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اسی لیے بروقت اسکریننگ کو بیماری کے خلاف جنگ میں پہلا اور اہم ترین قدم سمجھا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی کا بوجھ زیادہ ہے۔ ملک میں لاکھوں افراد اس وائرس سے متاثر ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ایسے میں بڑے پیمانے پر اسکریننگ مہمات متاثرہ افراد کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس سی کا علاج اب ممکن ہے اور بروقت تشخیص کے بعد مریض مکمل صحت یاب ہو سکتا ہے۔ اس لیے اسکریننگ کے بعد وائرس کی تشخیص ہونے والے افراد کے لیے علاج کی سہولت تک رسائی یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنی خود اسکریننگ ہے۔
اسلام آباد میں 12 یونین کونسلوں تک مہم کی رسائی اس بات کی علامت ہے کہ صحت کی سہولتیں شہر کے مختلف علاقوں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح کی مہمات ملک کے دیگر شہروں میں بھی چلائی جائیں تو ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے ہدف کی جانب بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
قومی ہیپاٹائٹس سی خاتمہ پروگرام کا مقصد ملک بھر میں وائرس کی اسکریننگ اور علاج کو عام کرنا ہے۔ اسلام آباد میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کی جانچ اس پروگرام کی ایک اہم کامیابی ہے اور اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ آئندہ برسوں میں اس بیماری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔






