Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
Free E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
HomeUrduدسترخوان: وہ میز جہاں خاندان اب بھی ملتا ہے

دسترخوان: وہ میز جہاں خاندان اب بھی ملتا ہےUrdu

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-10-30
4 min read

کبھی گھر کا دسترخوان صرف کھانے کی جگہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ دن کا وہ لمحہ تھا جب سب ایک جگہ جمع ہوتے تھے۔ والد کام سے لوٹ کر آتے، بچے کھیل سے واپس آتے، اور ماں کے ہاتھ کا کھانا سب کو ایک دائرے میں بٹھا دی

دسترخوان: وہ میز جہاں خاندان اب بھی ملتا ہے
Share:

آج کی زندگی نے اس میز کو آہستہ آہستہ خالی کر دیا ہے۔ اب ہر شخص کا اپنا وقت ہے، اپنی مصروفیت ہے، اپنا کمرہ ہے۔ کوئی دیر سے گھر آتا ہے، کوئی جلدی نکل جاتا ہے، کوئی کھانا ہاتھ میں لے کر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ کھانا اب بھی کھایا جاتا ہے، مگر ساتھ بیٹھ کر کھانے کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ تبدیلی کسی ایک وجہ سے نہیں آئی۔ کام کے اوقات بدل گئے ہیں، شہروں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں، اور ہر ہاتھ میں ایک ایسی اسکرین آ گئی ہے جو توجہ مانگتی ہے۔ رات کا کھانا اکثر ٹی وی کی آواز یا موبائل کی روشنی میں گزر جاتا ہے۔ بچہ اپنی پلیٹ کے ساتھ اپنی دنیا میں ہوتا ہے، اور بڑے اپنی فکروں میں۔ مگر اصل ساتھ تو وہ ہوتا ہے جب ہم ایک دوسرے کی بات سنیں۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

مشترکہ کھانے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ خاندان کو جوڑے رکھتا ہے۔ جب بچے روز اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں، تو وہ صرف کھانا نہیں سیکھتے، وہ بات کرنا بھی سیکھتے ہیں۔ وہ سیکھتے ہیں کہ اپنی بات کیسے کہی جائے، دوسرے کی بات کیسے سنی جائے، اور اختلاف پر بھی احترام کیسے رکھا جائے۔ بڑوں کے لیے بھی یہ وقت ایک وقفہ ہوتا ہے، دن بھر کی دوڑ سے نکل کر چند لمحے سکون کے۔ کئی گھرانوں میں بڑے فیصلے، چھوٹی خوشیاں اور پرانی یادیں اسی میز پر شیئر ہوتی ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ ہر روز سب کا ایک ساتھ بیٹھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ کسی کی ڈیوٹی دیر تک ہوتی ہے، کسی کا امتحان قریب ہوتا ہے، کسی کو سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے دسترخوان کو واپس لانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے آپ پر کوئی سخت قانون لاگو کریں۔ مطلب صرف یہ ہے کہ ہم اس کی قدر دوبارہ پہچانیں، اور جہاں ممکن ہو، اس کے لیے وقت نکالیں۔ ہفتے میں چند دن ہی سہی، ایک وقت ایسا ضرور ہو جب سب ایک ساتھ بیٹھیں، چاہے کھانا سادہ ہی کیوں نہ ہو۔

اس عادت کو واپس لانے کے لیے بڑی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا کافی ہے کہ کھانے کے وقت موبائل ایک طرف رکھ دیا جائے، ٹی وی کی آواز دھیمی کر دی جائے، اور ہر شخص کو بولنے کا موقع ملے۔ کھانا بنانے میں سب کا حصہ لینا بھی اس محفل کو خوبصورت بنا دیتا ہے۔

دسترخوان کی واپسی دراصل خاندان کی واپسی ہے۔ یہ وہ چھوٹی سی عادت ہے جو بڑے فاصلے کم کر سکتی ہے۔ کھانا تو ہر روز کھانا ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ہم اسے اکیلے کھائیں یا ساتھ بیٹھ کر۔ اگر ہم دن میں صرف ایک بار، چند لمحوں کے لیے، سب کچھ چھوڑ کر ایک میز پر جمع ہو جائیں، تو گھر پھر سے گھر لگنے لگتا ہے۔ اور شاید یہی وہ سکون ہے جس کی تلاش میں ہم دن بھر بھاگتے رہتے ہیں۔

دسترخوان: وہ میز جہاں خاندان اب بھی ملتا ہے