وفاقی سیکرٹری برائے قومی صحت خدمات مومن آغا نے جمعرات کو پولیو کے خاتمے کے قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا دورہ کیا اور جاری کوششوں کا جائزہ لیا۔ اس دورے کا مقصد آئندہ پولیو ویکسینیشن مہم کی تیاریوں کا جائزہ لینا اور ملک بھر میں ویکسینیشن کی کوریج کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر غور کرنا تھا۔
دورے کے دوران مومن آغا کو نیوک کی ٹیم نے تفصیلی بریفنگ دی، جس میں ملک میں پولیو کی موجودہ صورتحال، خاتمے کی سرگرمیوں میں پیش رفت، عملی منصوبہ بندی اور ویکسینیشن کی کوریج بہتر بنانے کے اقدامات شامل تھے۔ بریفنگ میں آئندہ مہم کی تیاریوں پر بھی بات ہوئی، جن میں وفاقی اور صوبائی صحت حکام کے درمیان رابطہ، فرنٹ لائن ویکسینیشن ٹیموں کی تیاری اور اس بات کو یقینی بنانے کی حکمت عملی شامل ہے کہ ہر اہل بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔
نگرانی، احتساب اور عوامی اعتماد
مومن آغا نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ قومی ہدف کے حصول کے لیے مربوط کوششیں، مؤثر نگرانی اور ہر سطح پر احتساب ضروری ہے۔ انہوں نے عملی چیلنجز سے نمٹنے، کمیونٹیز کو ساتھ ملانے اور عوامی اعتماد پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ ویکسینیشن مہمات کامیاب ہوں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بچوں کو پولیو وائرس کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
انہوں نے متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے اور جامع منصوبہ بندی، مؤثر عملدرآمد اور مسلسل نگرانی کے ذریعے پولیو سے پاک پاکستان کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ حکام کے مطابق معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کو مضبوط بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ بچوں کو پولیو اور دیگر قابل انسداد بیماریوں سے بچانے کے لیے مسلسل ویکسینیشن کوریج اور صحت کی خدمات کی بہتری ناگزیر ہے۔
پولیو کے خاتمے کا پروگرام پاکستان میں برسوں سے جاری ہے اور اس میں ہزاروں فرنٹ لائن کارکن گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلاتے ہیں۔ نیوک کے مطابق آئندہ مہم 2 سے 8 نومبر 2026 تک 97 اضلاع میں چلائی جائے گی، جس میں تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف ہے۔ یہ مہم ان علاقوں پر مرکوز ہے جہاں وائرس کی گردش کا خطرہ زیادہ ہے، اور اس کا مقصد کسی بھی بچے کو ویکسین سے محروم نہ رہنے دینا ہے۔ صحت حکام کا کہنا ہے کہ والدین کا تعاون، درست معلومات اور مقامی سطح پر نگرانی مہم کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، اور ہر دور میں قطرے پلانا ضروری ہے چاہے بچے کو پہلے بھی قطرے پلائے جا چکے ہوں۔








