کتابوں سے دوستی: ایک بھولی ہوئی عادتUrdu
کتاب ایک ایسا دوست ہے جو کبھی دھوکا نہیں دیتا، کبھی تھکتا نہیں اور ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گھروں میں کتابوں کی الماریاں ہوتی تھیں، لوگ رات کو سونے سے پہلے چند صفحات ضرور پڑھتے ت

مطالعہ انسان کی سوچ کو وسعت دیتا ہے۔ جو شخص کتابیں پڑھتا ہے وہ صرف اپنے محلے یا شہر تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں، تہذیبوں اور خیالات سے واقف ہو جاتا ہے۔ کتاب انسان کو سوال کرنا سکھاتی ہے، دلیل سے بات کرنا سکھاتی ہے اور دوسروں کی رائے کو سمجھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مطالعے کی عادت رکھنے والے افراد عام طور پر زیادہ پُراعتماد، زیادہ باخبر اور زیادہ بردبار ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس، صرف مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹوں پر گزارا کرنے سے ہماری توجہ کی مدت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم لمبی تحریر پڑھنے سے گھبراتے ہیں، کسی موضوع پر گہرائی سے سوچنے کی زحمت نہیں کرتے اور ہر بات کو سطحی انداز میں قبول کر لیتے ہیں۔ یہ عادت نہ صرف ہماری تعلیم بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کے فیصلوں کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ سوچنے کی صلاحیت ہی انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔
بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا والدین اور اساتذہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بچہ وہی کرتا ہے جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتا ہے۔ اگر گھر میں والدین خود کتاب پڑھتے ہوں تو بچہ بھی کتاب کی طرف متوجہ ہوگا۔ بچوں کو ان کی دلچسپی کی کتابیں دی جائیں، چاہے وہ کہانیاں ہوں، سائنس کی کتابیں ہوں یا کھیلوں کے بارے میں لکھی گئی تحریریں ہوں۔ زبردستی پڑھانے سے بچہ کتاب سے دور ہو جاتا ہے، جبکہ دلچسپی سے پڑھی گئی ایک کتاب اسے دوسری کتاب تک لے جاتی ہے۔
اسکولوں اور کالجوں میں کتب خانوں کو بھی زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کتب خانہ صرف کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں خاموشی، توجہ اور علم کی قدر سکھائی جاتی ہے۔ اگر طلبہ کو کتب خانے میں بیٹھ کر پڑھنے کا موقع ملے اور انہیں اچھی کتابوں کی رہنمائی کی جائے تو مطالعے کی عادت خود بخود پروان چڑھ سکتی ہے۔
مطالعے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت موٹی موٹی کتابیں پڑھے۔ روزانہ صرف بیس تیس منٹ کی پڑھائی بھی کافی ہے۔ اہم بات تسلسل ہے۔ جو شخص روزانہ تھوڑا پڑھتا ہے وہ سال کے آخر میں درجنوں کتابیں پڑھ چکا ہوتا ہے، جبکہ جو شخص کبھی کبھار پڑھتا ہے وہ سالوں تک ایک کتاب بھی مکمل نہیں کر پاتا۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کا کتنا وقت اسکرین کو دیتے ہیں اور کتنا کتاب کو۔ موبائل فون کی جگہ کتاب نہیں لے سکتی، لیکن کتاب کی جگہ موبائل فون بھی نہیں لے سکتا۔ دونوں کا اپنا مقام ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کتاب کو اپنی زندگی میں دوبارہ وہ مقام دیں جو کبھی اس کا تھا۔ کتابوں سے دوستی انسان کی بہترین دوستی ہے، کیونکہ یہ دوستی عمر بھر ساتھ رہتی ہے اور انسان کو ہر موڑ پر کچھ نیا سکھاتی ہے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
